خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 502 of 660

خطابات نور — Page 502

ہوگی کھانا بڑھ جاوے گا۔جب اندھیرا ہوگیا اور لوگ آنے لگے میں تو حیران ہوگیا جب معلوم ہوا کہ موچی دروازے کے نان بائیوں سے کھانا لے آئے ہیں۔میں نومرید تھا اس لئے سمجھا کہ شاید منتر سے شدھ کرلیا ہوگا۔پھر عیسائی موجود ہیں۔یہودی جن کا گندے سے گندہ نمونہ اسی شہر میں ہے۔آزاد الخیال لوگ بھی ہیں جو ہم کو دقیا نوسی کہتے ہیں۔بی،ٹی پڑھ کر ہمیں کہتے ہیں کہ اولڈ فیشن اور اس کا مطلب وہ یہ لیتے ہیں کہ انگریزی پڑھے ہوئے نہیں ہیں۔ان کے اعمال دیکھو تم مجھ سے زیادہ جانتے ہو۔دنیا کی حرص کتنی ہے اور اپنے اغراض کو دین کے مقابلہ میں کتنا مقدم کرتے ہیں۔ان سب کو اتنا برا نہیں سمجھتے جس قدر ہمیں۔مگر ہم اس کی پرواہ نہیں کرتے۔ہم نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک صادق کو مانا ہے۔لیکن تم جو مانتے ہو اپنے آپ کو دیکھو اگر تم بھی انہیں باتوں میں مبتلا ہو جن میں یہ لوگ ہیں تو پھر تم میں اور ان میں کیا فرق؟ مولویوں نے تم پر کفر کے فتوے دئیے اور تم اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے الگ بھی ہوئے مگر تم نے کوئی پاک تبدیلی نہ کی تو کیا فائدہ؟ جماعت کو نصیحت: میں دیکھتا ہوں چھوٹی سی جماعت ہے پھر آپس ہی میں مقابلہ ہوتے ہیں اور مباحثہ ہوتے ہیں۔یہ احمق اتنا نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ نے تمہیں مامور نہیں کیا کہ مباحثہ کرو۔میرے پاس بڑے بڑے جوشیلے خط آتے ہیں کہ فلاں نے یوں کیا اور فلاں نے ووں۔کیا میں لکھ دیتا ہوں تم کب ٹھیکہ دار ہو تم خود نمونہ بنو۔میں نے سیاہ کار لوگوں کو بھی دیکھا ہے کہ وہ دوسروں پر اعتراض کردیتے ہیں اور اپنے کسی معاملہ پر ریویو نہیں کرتے۔اس لئے میں تم کو محبت اور پھر درددل سے کہتا ہوں کہ اللہ کے راضی کرنے میں کوشش کرو۔ہمیں وقت ہی کب مل سکتا ہے کہ دوسروں سے جھگڑتے رہیں۔حلال کی کمائی کرو۔خود کھائو اور کھلائو۔والدین اور بچوں کی خدمت سے فارغ ہوکر اللہ کی کتاب پڑھو اور عمل درآمد کرو۔نکمے کاموں کے لئے پھر تمہیں وقت کب مل سکتا ہے؟ میں حیران ہوں کہ میں اس قدر آسودگی رکھتا ہوں کہ تمہارے خیال میں بھی نہیں آسکتی۔باوجود اس کے کہ سولہ، سترہ، اٹھارہ گھنٹہ روزانہ کام کرتا ہوں۔پھر بعض ایسے نکمے ہیں کہ وہ اپنے