خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 496 of 660

خطابات نور — Page 496

کہتے ہیں کہ سٹیم نے فلاں جگہ یوں کام کیا ہے۔اس لئے یہاں اس طرح پر ہو گا کیونکہ اسی قسم کے سامان موجود ہیں۔اسی استدلال بالمثل میں بہت سی غلطیاں ہو جاتی ہیں او رصحیح نتائج پیدا نہیں ہوتے۔قرآن کریم اپنے استدلال کے طریق میں استدلال بالاولیٰ سے کام لیتا ہے۔مثلاً ایک شمع مصفّا اگر فرض کریں کہ دو بالشت سے ایسی روشنی دیتی ہے کہ انسان آسانی سے اس میں پڑھ سکتا ہے پھر اگر اسی حیثیت کی سو شمع اس جگہ جمع کر دیں تو اس کی روشنی بدرجہ اولیٰ اتنی ہو گی کہ انسان آسانی سے پڑھ سکے۔یہ استدلال یقینی ہوتا ہے اور قرآن مجید اسی سے کام لیتا ہے۔میں قرآن مجید سے اس کی ایک دو مثالیں دیتا ہوں تا کہ تم اچھی طرح سمجھ جائو۔ایک جگہ فرمایا کہ ماں باپ کی ایسی عزت کرو کہ ان کو اف تک نہ کہو۔جب اف کی اجازت نہیں تو مارنے کی کس طرح ہو سکتی ہے؟ یہ استدلال بالاولیٰ ہے۔پھر ایک جگہ ایک قوم نے اپنے ہادی سے کہا کہ ہمیں بھی ایسے ٹھاکر بنا دو جیسے دوسری قوموں کے ہیں تا کہ ہم بھی ان بتوں کی پوجا کریں۔ان کے اس لغو خیال کی تردید یوں فرمائی۔(الاعراف :۱۴۱) یعنی یہ بت جن چیزوں سے بنے ہیں وہ تو تمہاری خادم ہیں یا وہ چیزیں جن کی یہ پرستش کرتے ہیں تمہاری خادم ہیں جیسے آگ، پتھر، مٹی، سورج، چاند وغیرہ یہ سب تمہارے خادم ہیں۔پھر خادم تو مخدوم نہیں ہو سکتے معبود کیونکر ہوں گے؟ اس طرح پر بت پرستی کی تردید کی۔اس طریق استدلال بالاولیٰ کے رنگ میں یہاں (الانعام :۱۹) میں نکتہ ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان تمام دنیا کی چیزوں پر حکمرانی کرتا ہے میں نے دیکھا ہے کہ ہاتھی کو انگوٹھے سے چلاتا ہے‘ اونٹ کو ایک نکیل سے اور گھوڑے کو لگام سے۔بیل کے ناک میں رسی ڈال کر اس سے کام لے لیتا ہے۔پہاڑوں کو کاٹ لیتا ہے‘ سمندروں پر جہازوں کے ذریعہ حکمرانی کرتا ہے۔عناصر کی کوئی چیز نہیں جو اس کے قبضہ واقتدار میں نہ ہو۔انسان کی اتنی بڑی طاقت بتا کر کہا کہ ہم ایسے غالب حکمران ہیں کہ عناصر پر حکومت کرنے والے انسان پر بھی ہماری ہی حکومت ہے