خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 493 of 660

خطابات نور — Page 493

پابندی نہیں کرتے۔حالانکہ سوسائٹی کے قوانین تو قرآن مجید سے بھی بڑھ جاتے ہیں۔اس نے کہا کہ بڑی مشکل سے ان قوانین تہذیب کو سیکھا ہے۔اب میں چھوڑ سکتا ہوں؟ غرض دنیا کی عجیب حالت ہے، بات کہاں سے کہاں چلی گئی۔میں بتا رہا تھا کہ اسلام احسان عام کی تعلیم دیتا ہے۔اس کے ضمن میں اسلامی جنگوں کی بحث آگئی۔تب مجھے جنگ کی عام حالت پر کچھ کہنا پڑا۔ہدایت: اسلام نے اس سورۃ میں کی راہ کی ہدایت کی دعا سکھائی ہے اور پھر عمل سے بھی یہی بتایا اور کہا۔ (البقرۃ :۳۹)۔عمل بڑا کارخانہ ہے اور دنیا ایک عملی دنیا ہے جو انسان ہدایت کی اطاعت کرتا ہے وہ کبھی خوف و حزن میں مبتلا نہیں ہوسکتا اور الٰہی ہدایت ہمیشہ دنیا میںا ٓتی رہتی ہے۔حزن گذشتہ کا خوف ہوتا ہے اور خوف آئندہ کے نقصان کے لئے ہوتا ہے۔اسی خوف و حزن پر ساری دوستیوں اور مخلوق کا مدار ہے۔اللہ جلشانہ‘ فرماتا ہے کہ خوف اور حزن سے بچنے کی ایک راہ ہے اور وہ اتباع ہدایت۔سے ظاہر ہوتا ہے۔میری طرف سے ہدایت نامے ملا کریں گے۔ہدایت نامہ تو ایک ہی ہوتا ہے مگر زمانہ کی نیرنگیاں، نئی تعلیم، ترقی، تنزل، زبان کی حالت چاہتی ہے کہ پیرایہ جدید ہو۔اس لئے فرماتا ہے  (النساء :۳)۔یہ معلم فطرت کوجگانے کے لئے آتے ہیں۔اس لئے ان کا نام ذکر ہوتا ہے وہ آکر فطری قویٰ کو جگاتے ہیں۔ جو ہدایت نامہ تم نے مانگا تھا۔وہ قرآن مجید کی صورت میں دیا گیا ہے اور بتایا کہ (البقرہ:۳)۔ریب کے دو ترجمہ ہیں (۱) ہلاکت، (۲) شک و شبہ اور دونوں درست ہیں۔تعلیمات الٰہیہ میں کوئی تعلیم ایسی نہیں جس سے ہلاکت کی راہ پیدا ہو بلکہ قرآن کے بیان سے یہ یقینا ثابت ہوتا ہے کہ وہ یقینا شفائٌللناس ہے اور اس کے عملدرآمد سے میں علیٰ وجہ البصیرۃ کہتا ہوں کہ اس پر عمل کرنے سے انسان کا مصداق ہوسکتا ہے۔ہاں اس تعلیم کی خلاف ورزی سے غلطی میں مبتلا ہوجاتا ہے اوربڑے بڑے نقصان اس کو اٹھانے پڑتے ہیں۔جہاں تک میری نظر جاتی ہے اور میں نے غور کیا ہے یہ بالکل امر