خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 492 of 660

خطابات نور — Page 492

پڑھا ہے کہ مسلمانوں کے وقت امتحان اور مقدمات کتنی جلد طے ہوتے تھے۔اصمعی ایک بڑا لغت کا امام تھا۔بخاری اور مسلم بھی اسے لغت کا امام مانتے ہیں۔اصمعی کے استادنے ہارون رشید کے حضور کہا کہ اصمعی تیار ہوگیا ہے اس کا امتحان لے لینا چاہئے۔ہارون رشید نے کہا کہ جب ہم کل سوار ہوں تو اس کا امتحان لیں گے ایک افراتفری اس پر پڑی کہ خداجانے کس چیز پر سوار ہوں بہرحال وقت مقررہ پر ہارون رشید باہر آیا۔لغت کے استاد کھڑے ہوئے تھے۔انہوں نے اصمعی کو پیش کیا۔ہارون رشید نے پوچھا کہ کیا تم تیار ہو اس نے جواب دیا کہ ہاں۔تب ہارون رشید نے گھوڑے کے پٹھے میں ہاتھ رکھ کر کہا کہ اس کو کیا کہتے ہیں۔اصمعی نام بتاتا گیا اور اس کی سند میں شعر پڑھتا گیا۔ہارون رشید نیچے تک ہاتھ لے گیا اور اصمعی فوراً بتاتا گیا۔جب ختم کرچکا تو پھر پٹھے پر ہاتھ رکھ کر آگے کی طرف چلا گیا اور کہا کہ منہ تک جائو اور نام لیتے جائو کہا کہ جلدی کرو کہ میں نے باہر جانا ہے۔اصمعی بتاتا گیا۔آخر ہارون نے کہا پاس امام اللغت، ایک آن میں امتحان بھی ہوگیا نتیجہ بھی نکل آیا اور ڈپلومہ بھی مل گیا۔اب دیکھ لو کہ جس قدر روشنی بڑھتی جاتی ہے مشکلات بڑھ رہے ہیں۔مقدمات کے متعلق جو حال ہے وہ تم جانتے ہو۔میں نے ایک شخص سے پوچھا کہ سویلیزیشن کے کیا معنی ہیں؟ اس نے کہا کہ ایک روپیہ کے مقدمہ کے لئے پریوی کونسل تک پہنچے۔ملکی مقدمہ بازی اور سویلیزیشن پر ریمارک: جس قدر قومیںتمہاری نگاہ میں تہذیب سے گری ہوئی ہیں ان میں مقدمہ بازی نہیں ہوتی وہ اپنی پنچایت آپ کر لیتے ہیں۔مگر جعلسازی، جعلی نوٹ اور چیک بنانا یہ سویلیزیشن کا کام سمجھا گیا ہے۔ایک شخص تین مہینے تک میرے گھر میں ر ہا اور خوب کھاتا پیتا رہا۔آخر کہا کہ مہمان نوازی بھی سویلیزیشن کے خلاف ہے۔میں نے اس کو کہا کہ تو ہمیں احمق بناتا ہے۔اس پر اس نے بڑی بڑی کہانیاں سنائیں کہ فدائی دوست اور عزیز بھی ہوں تو بھی سویلیزیشن کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ہوٹل میں اتریں‘ ان کا مخلص دوست زیادہ سے زیادہ یہ کرے کہ اپنے دوست کے آنر میں ایک ڈنر دے دے۔اس طرح پر اس نے انگریزی سوسائٹی کے آداب اور مشکلات کو سنایا۔میں نے ان کو کہا کہ تم نماز کی پابندی نہیں کرتے اور قرآن مجید کے قوانین کی