خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 491 of 660

خطابات نور — Page 491

عیسائی قوم: اب وہ قوم باقی ہے جو کہتی ہے مبارک وہ جو دل کے غریب اور حلیم ہیں اور ایک گال پر طمانچہ کھاکر دوسری پھیر دو۔کوئی چادر مانگے تو کُرتا بھی دے دو۔ایک میل بگار کے لئے لے جاوے تو دو میل چلا جاوے۔مگر باوجود اس تعلیم کے گولیوں، ریفلوں، جنگی جہازوں اور تار پیڈو دیکھ لئے۔آئے دن کی جنگی ایجادوں کو دیکھ لو۔پھر پتالگ جاوے گا وہ تعلیم اب کہاں ہے؟ غرض تمام مذاہب جو اسلام کی جنگوں پر اعتراض کرتے ہیں۔وہ خود اس میں مبتلاہیں باوجود اس کے اسلام کی لڑائیاں دفاعی تھیں چنانچہ فرمایا: (البقرۃ :۱۹۱)۔تاریخ ہند کی غلطیاں: ہاں ہمارے بچے بہت معذور ہوسکتے ہیں۔میں نے ایک بچے کے ہاتھ میں تاریخ ہند دیکھی اس میں سیوا جی مرہٹہ اور عالمگیر کے حالات کو دیکھا۔سیواجی نے کہیں خوشامد سے کام لیا ہے اور کہیں دھمکی سے، مؤرخ وہاں کہتا ہے کہ سپاہیا نہ طرز ہے۔سیواجی بڑا بے نظیر سپاہی تھا۔کیسی ترکیب کی ہے پہاڑوں اور راستوں کا بڑا ماہر تھا۔فلاں موقع پر کیسا مخفی ہوا۔پھر وہی لفظ جب عالمگیر کے متعلق استعمال کرنے پڑے تو کہتا ہے گربہ مزاج کیسا شتر مُرغ سا کام کیا ہے۔میں نے اس بچہ سے پوچھا تم نے تاریخ پڑھی ہے۔سیواجی بڑا تھا یا عالمگیر ، اس نے کہا سیواجی بڑا بہادر سپاہی تھا وہ بڑا تجربہ کار اور ہوشیار تھا اور عالمگیر مکار تھا۔اس کا کام گربگی کاہے۔میں نے جب سیواجی کے متعلق اس کو وہی کام دکھائے جو عالمگیر کے نام پر آنے سے مکاری بنتے ہیں اور سیواجی ان کے ذریعہ بہادر اور تجربہ کار سپاہی بتایا جاتا ہے۔تو وہ حیران سا ہوگیا اور کہا کہ دونوں کی ایک ہی بات ہے پھر میں نے کہا کہ یہ کیوں فرق کرتا ہے۔دواں کی سوانح عمری پڑھ کر بتائو اس نے کہا میں نے سمجھ لیا ہے۔دونوں کو لڑاتا ہے۔میں نے کہا کہ ہمارا نکتہ یاد رکھو جب تم بہت پڑھ لو گے تو حقیقت معلوم ہوجائے گی۔اسلامی تاریخ کا ایک واقعہ: غرض قوموں میں ایسے انقلاب آجاتے ہیں کہ انہیں جنگ سے کام لینا پڑتا ہے۔میں نے تاریخ میں