خطابات نور — Page 490
چھوڑ دیا۔جنگل میں رہنا اختیار کیا۔باوجود اس نرمی کے دیکھو جنگ کیسی اٹل ہے جنگل میں بھی جنگ کرنی پڑی اس حد تک مخالف قوموں کو نیچا دکھایا کہ دکن کی جن لوگوں نے سیاحت کی ہے۔وہاں دہیڑ قوم چوہڑوں سے بھی زیادہ بدتر ہے۔وہ راون کے طرفدار تھے۔اب رام لیلا پر چاہے مسلمانوں سے مقدمات کریں مگر مجھے ایک واقعہ یاد ہے کہ ایک جگہ بڑی رام لیلا ہوتی تھی ایک بڑے عالم و ودان اس میں شریک نہ تھے۔میں نے پوچھا کہ آج آپ نہ تھے اس نے کہا کہ وہ بڑے ملیچھ ہیں۔برہمن کو مارا اور یہ بھی کہا کہ راجہ سے پوچھو کہ رام لیلا کے بعد پراشچت کیوں کرتا ہے۔دوسرے دن مجھے موقع ملا تو میں نے اس رئیس سے پوچھا کہ کل بڑا تماشاہوا اس نے کہا ہاں اگلے سال زندہ رہے تو پھر راون کو ماریں گے۔اس پر میں نے کہا کہ آپ تو بڑے مضبوط ارادے رکھتے ہیں۔مگر رات کو کیا رسم ہوئی تھی۔کہا ہاں پراشچت ہے۔راون برہمن تھا برہمن کو مارنا بڑا گناہ ہے اس لئے پراشچت کرنی پڑی۔میں نے کہا آپ گناہ بھی سمجھتے ہیں اور کرتے بھی ہیں۔تو کہا یہ اور بات تھی اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ لڑائیاں اور چیز ہیں ان کے اسباب الگ ہوتے ہیں اور وہ اٹل ہوتی ہیں۔کرشن جی گوپال تھے۔متھرا میں بارش کے دنوں میں عجیب نظارے نظر آتے ہیں۔انہوں نے ایک قوم کے آگے ایک قوم کی سفارش کی تھی اور سفارش بھی اتنی کہ ان کو پانچ گائوں دے دو، کو روکے سامنے پانڈو کی سفارش کی تھی مگر مصلحت ملکی سے انہوں نے نہ مانا۔آخر مہابھارت کی جنگ جیسی خطرناک تھی۔اسے ہمارے ہندو دوست خوب جانتے ہیں ہمیں تو کہا جاتا ہے کہ بڑا ظلم کیا مگر اس وقت کیا ہوا۔سکھوں کا عہد: ہماری آنکھوں کے سامنے پنجاب اور پھر لاہور ہے۔گرو گرنتھ صاحب کے بچن کیسے نرم ہیں اور باوا صاحب کے شاگردوں کا نام سکھ تھا جو اچھی باتیں سیکھ کر عمل کرتے ہیں مگر دسویں خلیفہ کے وقت بات کہاں تک جا پہنچی۔سکھ کی بجائے آئندہ سنگھ کہلائے جس کے معنے شیر کے ہیں یہ جنگی رنگ تھا۔یہ بالکل سچی بات ہے کہ جنگی امور اور مصالح پر مبنی ہوتے ہیں۔میں نے کہا ہے کہ اسلام میں مروت عام ہے اور وہ مذاہب کا ابقا چاہتا ہے پھر اگر کوئی کہے کہ جنگ کیوں کئے تو میں نے تاریخی واقعات سے بتایا ہے کہ صوفیوں کو بھی کرنے پڑے ہیں۔