خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 483 of 660

خطابات نور — Page 483

اور دعا میں یہ خاصیت ہے کہ جب وہ اضطراب اور توجہ تام سے مانگی جاوے تو ضرور قبول ہوتی ہے۔دعا اور کوشش: بعض لوگ دعا کے منکر ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ زبان سے کہہ دینے سے کیا بنتا ہے مگر مجھے تعجب ہے کہ تمام خواہشیں جب دل سے اٹھتی ہیں تو پھر وہ زبان پر آتی ہیں اور اس کے بعد ان کا اثر تمام اعضاء پر پڑتا ہے۔کم سے کم بعض معاملات میں وکلاء کو اور کورٹ فیس کے لئے روپیہ دینا پڑتا ہے۔یہ تمام کرشمے اس ایک خواہش کے ہیں۔جو دل میں پیدا ہوئی۔پھر کیا یہ تعجب کی بات ہے کہ دل کی خواہش باقی اعضاء پر متاثر ہوکر ان کی مساعی سے بارآور ہوجاوے اور زبان سے اگر اللہ تعالیٰ کے حضور التجا اوردعا کی جاوے، تو وہ کامیاب نہ ہو اسے بے اثر اور فضول قرار دیا جاوے۔وہ تمام مساعی جو ایک شخص کسی مطلب کے لئے کرتا ہے اور ادھر ادھر ہاتھ پائوں مارتا ہے۔یہاں تک کہ ایک شخص جو بیٹھا ہوا سربگریباں کسی امر کے متعلق سوچ رہا ہے۔یہ سب کے سب دعا ہی کے عجائبات ہیں۔مگر ایک محجوب انسان سمجھ نہیں سکتا۔یہ غوروفکر اور کوشش ایک محجوب کی دعا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑانا اور پکارنا عارف کی دعا ہے۔جس سے انکار نہیں ہوسکتا۔وہ لوگ جھوٹے ہیں جو نبیوں کے بتائے ہوئے اصل سے انکار کرتے ہیں۔کوشش کو مقدم کیا ہے اور دراصل کوشش بھی ایک قسم کی دعا ہی ہوتی ہے لیکن یہ ابتدائی درجہ دعا کا ہے۔جب انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کاملہ پر ایمان لاتا ہے اور اسباب کی زنجیروں سے نکل جاتا ہے وہ اس کی عارفانہ زندگی ہوتی ہے۔اس مقام پر وہ بے اختیار ہوکر  ہی پکارتا ہے۔وضو: غرض یہ دعا ہی ہے۔مسلمان جب دعا کے لئے تیار ہوکر آتا ہے۔تو سب سے پہلاکام وضو ہے۔غالب گناہ ہاتھ پائوں کے متعلق ہوتے ہیں۔اس لئے ان کو وضو میں دھوتا ہے۔گویا یہ بتاتا ہے کہ جہاں جہاں میرا ہاتھ پہنچنا ہے۔میں اس کو دھونے کو تیار ہوں۔باقی کے لئے آپ مدد کریں۔وضو کی ظاہری حالت  کے نیچے ہے اور اس کی اصل حقیقت اور روح جو اندرونی طہارت اور باطنی پاکیزگی ہے۔وہ  کے ماتحت ہے۔اذان میں اصول اسلام کا اعلان: پھر نماز میں آنے سے پہلے کوشش کی اور بھی حد کردی۔پانچ وقت نمازوں کے یا اس اصل