خطابات نور — Page 480
کے لوگ خلافت کے امر میں روک ہیں۔اگر ایسا نہ کرو گے تو پھر خدا مسیلمہ کا سا معاملہ کرے گا۔جماعت کے ساتھ نمازیں پڑھو۔درود اور استغفار پڑھو۔حلال طیب کمائو اور کھائو۔ان بیہودہ باتوں سے کوئی نفع نہیں اٹھا سکتے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان نکما نہیں بیٹھ سکتا۔میں نئے تجربہ کی سپارش نہیں کرتا بلکہ میں دیکھتا ہوں کہ حالت ایسی ہی ہے کہ اگر بیوی اچھی خوبصورت مل گئی تو صرف شہوانی کام رہ گیا۔اسی شہر میں ایک بڑاآدمی گزرا ہے۔ایک انگریز اس سے ملنے کو آیا اس کو اس نے اپنی فوج کا معائنہ کرایا۔رسالے،پیادے، توپخانہ وغیرہ دکھا کر پوچھا کہ کیسی فوج ہے اس نے شکریہ ادا کیا اور اظہار مسرت کیا۔فوج سامنے کھڑی تھی مگر حکم دیاکہ خاصہ کی فوج لائو۔اندر سے بڑی خوبصورت عورتیں ہتھیار لگائے ہوئے آگئیں اس انگریز سے پوچھا کہ ایسی فوج بھی دیکھی ہے اس نے کہا کبھی نہیں۔اس پر اس رئیس نے کہا کہ پہلی فوج میری ہے اگر وہ بغاوت کر دے تو میں اکیلا اسے تباہ کر سکتا ہوں، مگر اس فوج کے مقابلہ میں ہمیشہ شکست کھاتا ہوں۔غرض کچھ مسلمان تو اس کام میں لگے ہوئے ہیں اور تیار ہیں اور کچھ وہ ہیں جو نکمے ہیں سارا دن مباحثات کرتے ہیں ان سے پوچھو فرشتوں نے اعتراض کر کے کیا لیا تھا۔پس تم ان جھگڑوں کو چھوڑ دو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(اٰل عمران :۱۰۵) تم میں ایسے لوگ ہوں جو خیر مسلّم کی طرف بلانے والے ہوں۔پسندیدہ اور بھلائی کے کاموں کا امر کریں اور ناپسندیدہ باتوں کو روکیں اور وہ مظفر ومنصور ہوں گے۔اب میں پھر نصیحت کرتا ہوں میرے بڑھاپے اور بیماری کو دیکھ لو اپنے اختلافوں کو دیکھ لو کیا یہ تمہیں خد اسے ملا دیں گے۔اگر نہیں تو پھر ہماری بات مانو اور محبت سے رہو۔اور اس طرح پر رہو کہ میں تمہیں دیکھ کر اسی طرح خوش ہو جائوں جس طرح پر مسجد کو دیکھ کر خوش ہوا۔جس طرح شہر میں داخل ہو کر مسجد کو دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی۔خدا کرے کہ جاتے ہوئے مجھے یہ آواز دے کہ تم باہم ایک ہو اور تم محبت سے رہتے ہو۔تم بھی دعائوں سے کام لو میں بھی تمہارے لئے دعا کروں گا۔وباللّٰہ التوفیق (الحکم ۲۱، ۲۸؍جون ۱۹۱۲ء۔صفحہ ۱۴ تا ۲۲)