خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 476 of 660

خطابات نور — Page 476

یہ بنیاد رافضیوں نے رکھی ایک رافضی نے مجھے ایک رسالہ دکھایا جس کا نام طریق نجات تھا اس نے تمام اولیاء پر ایک لعنت کا باب الگ رکھا ہے تمام محدثین پر لعنت کا باب الگ۔میں نے اسے دیکھ کر کہا کہ تم نے حد کر دی ہے تمہیں کچھ بھی نصیب نہ ہو گا وہ جھوٹا ہی مر گیا۔جیسا میں نے ابھی کہا ہے یہ رفض کا شبہ ہے جو خلافت کی بحث تم چھیڑتے ہو۔یہ تو خدا سے شکوہ کرنا چاہئے کہ بھیرہ کا رہنے والا خلیفہ ہو گیا۔کوئی کہتا ہے خلیفہ کرتا ہی کیا ہے؟ لڑکوں کو پڑھاتا ہے۔کوئی کہتا ہے کہ کتابوں کا عشق ہے اسی میں مبتلا رہتا ہے۔ہزار نالائقیاں مجھ پر تھوپو۔مجھ پر نہیں یہ خدا پر لگیں گی جس نے مجھے خلیفہ بنایا یہ لوگ ایسے ہیں جیسے رافضی ہیں۔جو ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما پر اعتراض کرتے ہیں۔غرض کفر وایمان کے اصول تم کو بتا دئیے گئے ہیں۔حضرت صاحب خدا کے مرسل ہیں اگر وہ نبی کا لفظ اپنی نسبت نہ بولتے۔تو بخاری کی حدیث کو نعوذ باللہ غلط قرار دیتے جس میں آنے والے کا نام نبی اللہ رکھا ہے پس وہ نبی کا لفظ بولنے پر مجبور ہیں۔اب ان کے ماننے اور انکار کا مسئلہ صاف ہے۔عربی بولی میں کفر انکار ہی کو کہتے ہیں ایک شخص اسلام کو مانتا ہے اس حصہ میں اس کو اپنا قریبی سمجھ لو۔جس طرح پر یہود کے مقابلہ میں عیسائیوں کو قریبی سمجھتے ہو اسی طرح پر یہ مرزا صاحب کا انکار کر کے بھی ہمارے قریبی ہو سکتے ہیں اور پھر مرزا صاحب کے بعد میرا انکار ایسا ہی ہے جیسے رافضی صحابہ کا کرتے ہیں۔ایسا صاف مسئلہ ہے مگر نکمے لوگ اس میں بھی جھگڑتے رہتے ہیں۔نکمے لوگ ہیں اور کام نہیں ایسی باتوں میں لگے رہتے ہیں ایک تو وہ ہیں جو قلعے فتح کرتے ہیں اور ایک یہ ہیں۔کیا کوئی خلافت کے کام میں روک ہے: تیسری بات یہ ہے کہ بعضلوگوں کا خیال ہے اور وہ میرے دوست کہلاتے ہیں اور میرے دوست ہیں وہ کہتے ہیں کہ خلافت کے کام میں روک لاہور کے لوگ ڈالتے ہیں۔میں نے قرآن کریم اور حدیث کو استاد سے پڑھا ہے اور میں دل سے اسے مانتا ہوں۔میرے دل میں قرآن اور حدیث صحیح کی محبت بھری ہوئی ہے۔سیرۃ کی کتابیں ہزاروں روپیہ خرچ کر