خطابات نور — Page 477
کے لیتا ہوں ان کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے اور یہی میرا ایمان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔آدم اور دائود کا خلیفہ ہونا میں نے پہلے بیان کیا اور پھر اپنی سرکار کے خلیفہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کا ذکر کیا اور یہ بھی بتایا کہ جس طرح پر ابوبکر اور عمر خلیفہ ہوئے رضی اللہ عنہما اسی طرح پر خدا تعالیٰ نے مجھے مرزا صاحب کے بعد خلیفہ کیا اب اور سنو (یونس :۱۵) تم سب کو بھی زمین میں اللہ تعالیٰ نے ہی خلیفہ کیا یہ خلافت اور رنگ کی ہے پس جب خلیفہ بنانا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے تو کسی اور کی کیا طاقت ہے کہ اس کے کام میں روک ڈالے۔لاہور میرا گھر نہیں میرا گھر بھیرہ میں تھا یا اب قادیان میں ہے میں تمہیں بتاتا ہوں کہ لاہور کا کوئی آدمی نہ میرے امر خلافت میں روک بنا ہے نہ بن سکتا ہے پس تم ان پر بدظنی نہ کرو۔قرآن مجید میں فرمایا ہے (الحجرات :۱۳) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث۔(صحیح بخاری۔کتاب الوصایا۔باب قول اللہ تعالٰی من بعد وصیۃ یوصی۔۔) اللہ تعالیٰ نے یہی تعلیم دی ہے بدظنی سے ہٹ جائو۔یہ بدکار کر دے گی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدظن بڑا جھوٹا ہوتا ہے پس تم بدظنی نہ کرو۔اب بھی میرے ہاتھ میں ایک رقعہ ہے وہ لکھتا ہے کہ لاہور کی جماعت خلافت میں ایک روک ہے۔میں ایسا اعتراض کرنے والوں کو کہتا ہوں کہ یہ بدظنی ہے اس کو چھوڑ دو۔تم پہلے ان جیسا اپنے آپ کو مخلص بنائو۔لاہور کے لوگ مخلص ہیں حضرت صاحب سے انہیں محبت ہے۔غلطی انسان کا کام ہے۔اس سے ہو جاتی ہے ان سے بھی غلطی ہوتی ہے یہ جُدی بات ہے مگر ان لوگوں نے جو کام کئے ہیں تم بھی کر کے دکھلائو۔میں بلند آواز سے کہتا ہوں کہ جو لاہوریوں پر بدظن ہے کہ وہ خلافت میں روک ہیںاسے یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بدظنی کرنے والے کو یہ سروپا ملتا ہے ان الظن اکذب الحدیثاور اللہ جلشانہ نے فرمایا: وہاں