خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 42 of 660

خطابات نور — Page 42

تعالیٰ نے پہلے سے اس کی اطلاع دی تھی۔(البقرۃ :۲۹) اس وقت پھر وہی موت کی حالت طاری ہے۔اسلام فی نفسہٖ زندہ اسلام ہے۔قرآن شریف زندہ کتاب ہے لیکن مسلمانوں کی اپنی کم ہمتی، کم توجہی اور قرآن شریف سے اعراض نے ان کو مردہ بنادیا ہے۔بالاتفاق مسلمانوں نے ایک زبان ہوکر مان لیا ہے کہ ان کی قوم مرچکی ہے یہاں تک کہ بعض نے جنازہ بھی پڑھ دیا ہے۔اس قسم کی صدائیں سن کر اس میں شک نہیں کہ مجھے بعض اوقات سخت گھبراہٹ اور اضطراب ہوا ہے لیکن مجھے خوشی بھی ہوئی ہے۔اس لئے کہ میں جانتا ہوں اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کے موافق اس موت کے بعد ایک احیا بھی ہے اور میں یقینا سمجھتا ہوں کہ اس احیا کا یہی وقت ہے اور وہ احیا اللہ تعالیٰ نے ہمارے امام علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ کرنا چاہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کے اور صرف اس کے آنے ہی سے بلکہ اس کے ہی منہ سے زندہ رسول، زندہ مذہب، زندہ کتاب اور زندہ خدا وغیرہ الفاظ سننے میں آئے ہیں۔یہ اس لئے کہ اس میں زندگی بخش قوت ہے۔اس امام کے حکم سے میں اس وقت آپ لوگوں کو کچھ سنانا چاہتا ہوں۔میں نے شروع میں کہا ہے کہ مریض کو اپنے علاج کے لئے جہاں تجربہ کار اور حاذق طبیب کی طرف رجوع کرنا چاہئے وہاں صبر اور استقلال کے ساتھ اس کے بتائے ہوئے علاج اور پرہیز سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور ایک مجرب نسخہ استعمال کرنا چاہئے۔اب اس وقت جو امراض دنیا میں روحانی طور ــپرپھیلے ہوئے ہیں۔اس قسم کے امراض اس وقت بھی تھے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہور فرمایا تھا اور ان بیماریوںکا علاج قرآن شریف کے ذریعہ کیا گیاتھا۔اس و قت بھی جب تک اس مجرب نسخہ کو استعمال نہ کیا جائے کچھ فائدہ نہ ہوگا اور اس نسخہ کا استعمال اس وقت تک ممکن نہیںجب تک حاذق طبیب کی طرف رجوع نہ ہواور وہ حاذق طبیب کون ہیــ؟ اس زمانہ کا امام(علیہ السلام) اس کی صحبت میں رہ کر علاج کے اصول کے موافق فائدہ اٹھائو۔اور اسی لیے میںنے تمھیں یہ آیت سنائی۔(التوبۃ :۱۱۹)