خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 452 of 660

خطابات نور — Page 452

کیوں ہے؟ محمود کو یہ بات پہنچی۔راستہ میں محمود نے ایک پہاڑی کی طرف جھک کر دیکھا۔لوگوں نے خیال کیا کہ قدرت کا نظارہ کرتے ہوں گے مگر ایاز فوراً اپنی فوج کا دستہ لے کر پہاڑی پر چڑھ گیا۔تب محمود نے کہا کہ ایاز سے پوچھو وہ پہاڑی پر کیوں چڑھ گیا۔اس نے کہا میں جانتا ہوں بادشاہ عاقبت اندیش ہے بے وجہ نکمی حرکات نہیں کرتا اور اس کا دیکھنا بے وجہ نہیں۔محمود نے جب پہاڑی کو دیکھا تو میں نے سمجھا کہ کوئی خطرہ ضرور ہے۔اس پر محمود نے ان لوگوں کو کہا کہ ایاز ہمارا مزاج شناس ہے اور خدمت کرتا ہے۔اس ایاز ہی کی قبر کو لاہوری کم جانتے ہیں۔میں تو عبرت کے لئے وہاں چلا گیا۔اس سے پہلے عربوں کے حملہ کے وقت بھی آباد تھا۔غرض میرا مقصد لاہور کی تاریخ بیان کرنا نہیں۔یہ ایک تاریخی مقام ہے سب جانتے ہیں۔پس میں اصل غرض بیان کرتا ہوں۔عمارتیں ہمیشہ سے دنیا میں بنتی ہیں، بنتی رہیں گی اس عمارت کے ارد گرد بھی تازہ عمارتیں بنی ہوئی اور بن رہی ہیں۔اس عمارت سے ہمارا شخصی اور قومی تعلق: مگر اس عمارت کے ساتھ ہمارا ایک خاص تعلق ہے اور یہ تعلق شخصی بھی ہے اور قومی بھی۔شخصی تو یہ کہ حضرت صاحب نے وعدہ فرمایاتھا کہ اس عمارت کی بنیاد رکھیں اور حضرت صاحب کا ایک خادم اس وعدہ کو پورا کردے۔قومی تعلق یہ ہے کہ اس عمارت میں ہماری قوم (حضرت خلیفۃ المسیح مد ظلہ العالی کا اشارہ اس وصیت کی طرف ہے جو شیخ صاحب نے اپنی جائیداد کے متعلق کی ہوئی ہے کہ اس کا تیسرا حصہ قومی خدمات کے لئے ہو گا۔ایڈیٹر الحکم )کا بھی ایک حصہ ہے اس لئے قوم کو چاہیے کہ درد دل سے دعا کرے کہ انجام بخیر ہو اور اس مکان میں جو بسنے والے ہوں جو اس کے مہتمم ہوں وہ راستباز ہوں اور نیکی سے پیار کریں۔اگر اس مکان کے رہنے والے سچے، راستباز اور متقی مومن ہوں گے۔اللہ تعالیٰ انہیں بڑھائے گا اور پھیلائے گا اور جس قدر یہ عمارت بڑھے گی اسی قدر ہماری قوم متمتع ہوگی کیونکہ اس کا اس سے تعلق ہے۔بنیادی پتھر کی اصل قرآن میں : میں نے کہا ہے کہ میں ہمیشہ سنت کو پسند کرتا رہا ہوں اس لئے میں نے قرآن کریم میں غور کیا ہے کہ قرآن مجید میں کسی عمارت کا پتھر رکھنا ہے یا نہیں یا یوں ہی ایک بات بنالی ہے تو میری توجہ اس آیت