خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 451 of 660

خطابات نور — Page 451

کسی غیر معلوم زمانہ دراز سے عمارتیں بن رہی ہیں۔یہ کوئی نئی بات نہیں اس کی بنیادیں رکھی جاتی ہیں۔میرے آقا ، میرے محسن (حضرت مسیح موعودؑ) نے شیخ صاحب (شیخ رحمت اللہ صاحب) سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کی عمارت کی بنیاد اپنے ہاتھ سے رکھیںگے۔اللہ تعالیٰ کا منشاء ایسا ہی ہوا کہ آپؑ کے اس وعدہ کی تعمیل آپؑ کا ایک خادم کرے۔شیخ صاحب نے لکھا کہ تم آئو۔میں بیمار ہوں اور بعض اعضاء میںدرد کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہے مگر میرے دل میں یہ جوش ہے کہ اپنے پیارے کے منہ سے نکلی ہوئی بات پوری کرنی چاہتا ہوں۔مجھے رسومات اور بدعات سے نفرت ہے اور سنت سے محبت ہے۔آج نہیں بچپن سے میری فطرت میں یہ ایک جوش ہے کہ وحدہ لا شریک کا فدا ہوں اور شرک سے کلی بیزار ہوں اور ایسے امور سے نفرت کرتا ہوں جن میں کوئی رسم و بدعت ہو۔خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھ پر کوئی زمانہ ایسا نہیں آیا کہ میں نے شرک و بدعت کو پسند کیا ہو۔غرض عمارات جیسا کہ میں نے کہا لا انتہا زمانہ سے بنتی چلی آئی ہیں اور بنتی چلی جائیں گی۔لاہور ایک ایسا شہر ہے کہ بہت پرانی تاریخ میں اس کا پتا ملتا ہے۔سفینۃ الاولیاء میں دارا شکوہ کا قول میں نے پڑھا ہے کہ تیس ہزار قرآن کریم کے حافظ اس وقت یہاں تھے جب وہ یہاں اترے ہوئے تھے۔یہ لمبا زمانہ نہیں۔ایک ہزار ہجری کے بعد کا زمانہ ہے بلکہ بہت ہی قریب کا زمانہ ہے۔اب میں نہیں سمجھتا ہوں کہ تیس ہزار کے بدلہ میں تین ہزار بھی ہوں۔اس وقت تو تیس ہزار وہ تھے جو بادشاہ کے سامنے ثبوت دے سکتے تھے اب ایسے نہ ملیں۔چونکہ ان کو میاں میر صاحب سے ارادت تھی اس لئے ان کے حرم سرا سے وہاں تک جانے کے لئے ایک پردہ دار سڑک بنی ہوئی تھی۔پھر اس سے بھی پیچھے جائیں تو محمود غزنوی کے زمانہ میں بھی لاہور کے تاریخِ عمارت کے عجائبات معلوم ہوتے ہیں۔محمود بڑا عاقبت اندیش تھا ان سے غلطیاں بھی ہوئیں ، نیکیاں بھی ہوئیں۔فارسی کا رواج انہی نے ڈالا۔اس کے بیٹے ابراہیم نے لاہور دارالسلطنت تجویز کیاتھا۔رنگ محل کے ادھرایاز کی قبر ہے جو ایک کشمیری پنڈت تھا اور مسلمان ہوگیا تھا۔محمود غزنوی کو اس سے بہت محبت تھی اور ان کے محبت کے بڑے اسباب لکھے ہیں۔منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ جب محمود قنوج پر حملہ آور ہوا تو بعض لوگوں کو تعجب ہوا کہ ایک کشمیری پنڈت سے جو نو مسلم ہے اس قدر محبت