خطابات نور — Page 445
ہوا تھا۔میں گھٹنوں کے بل کھڑا ہو گیا۔پھر کہا ذرا اور آگے ہو جائو۔آخر میں اور آگے ہوا۔اس نے کہا میری گدی تو وہ پڑی ہے مگر میں کبھی وہاں نہیں بیٹھا یہاں بیٹھتا ہوں مگرآج مجھے سمجھ آئی ہے کہ میں یہاں کیوں بیٹھتا ہوں۔سامنے ایک محراب والا دروازہ تھا مجھے کہنے لگا کہ کیا سارے شہر میں اتنا بڑا دروازہ آپ نے دیکھا ہے میں نے کہا کہ نہیں۔پھر اس نے کہا کہ اس گھر کا مالک اتنا بڑا آدمی تھا کہ جس قسم کا چھاتہ یہاں کا رئیس رکھتا ہے صرف وہ رکھ سکتا تھا اور ہم ولایت کی سیاہ چھتری بھی رئیس کے سامنے لگا کر نہیں جا سکتے۔اب اس کی بیوی میرے گھر میں برتن دھونے پر ملازم ہے۔میں نے جب اس نظارہ کو دیکھا تو وجد آگیا۔میں نے کہا میں اب جاتا ہوں اور اس جوش میں میں وہاں کے رئیس کے پاس چلا گیا وہاں بھی کچہری ہو رہی تھی جب اس کے کھانے کا وقت آیا سب چلے گئے۔میں بیٹھا رہا۔اس نے بھی دربار برخاست کیا مگر میں پھر بھی بیٹھا رہا۔میںیہ قصہ نہیں سناتا میں جس غرض کے لئے سناتا ہوں وہی غرض اب بھی ہے۔میرے گھر میں اتنی روٹی نہیں پکتی جو تم سب کا پیٹ بھروں۔اس لئے میں تم کو یہ دعوت کرتا ہوں اور یہ باتیں سناتا ہوں کہ تمہیں فائدہ پہنچے۔غرض اس رئیس کو بھی وہی تقریر سنائی اس نے کہا میرے سامنے آئو۔اس کے سامنے پہاڑ تھا اس نے کہا کہ یہاں ایک شہر تھا جو پہاڑ کو کرید کر بنایا گیا تھا۔اس کا نام دھارانگر تھا۔ہمارے بزرگ اس شہر کے رئیس کے ماتحت تھے خدا تعالیٰ نے یہ واعظ میرے سامنے رکھا ہے اور یہ مجھے بتاتا رہتا ہے۔وہ مشرق میں تھا پھر جنوب کی طرف رخ کیا اور وہاں ایک قلعہ دکھایا اور کہا کہ یہ قلعہ بڑے زبردست بادشاہ کا قلعہ ہے اور یہ اس غرض کے لئے ہے کہ کوئی وبائی بیماری ہو تو وہاں جا رہتے ہیں۔اس نے اس کے متعلق تاریخی واقعہ سنایا کہ ظلم کے سبب وہ سب ہلاک ہو گئے ہیں۔میں وہاں سے اٹھ کر اپنی جگہ گیا مگر وہ رئیس وہاں رہا۔میں نے ادب کے خلاف سمجھا کہ یہ اٹھا نہیں اور میں اپنی جگہ پر آگیا ہوں پر اس نے خیال نہ کیا اور کہا کہ جہاں ہم کو کمر بند ریاست دیا جاتا ہے اور جہاں گدی نشینی ہوتی ہے وہ ان بادشاہوں کا ہے جن کی غلامی پر فخر کرتے تھے اور آج ان کی نسل کو کھانا نہیں ملتا۔اس نے کہا آج یہ نکتہ سمجھ میں آیا کہ یہ ہمارے سمجھانے کے لئے ہے۔میں تم کو سمجھاتا ہوں کہ ہمارے گائوں میں