خطابات نور — Page 432
بول دیتے ہو دیکھو میں خلیفۃ المسیح ہوں اور خدا نے مجھے بنایا ہے۔میری کوئی خواہش اور دردمنددل سے نصیحت: آرزو نہ تھی اور کبھی نہ تھی جب خدا تعالیٰ نے مجھے یہ رِدَا پہنادی ہے میں ان جھگڑوں کو ناپسند کرتا ہوں اور سخت ناپسندکرتا ہوں میں نہیں چاہتا کہ تم میں ایسی باتیں پیدا ہوں جو تنازعہ کا موجب ہوں اس لئے میں اس خیال سے کہ سرچشمہ شاید گرفتن بہ میل چو پرشد نشاید گذشتن بہ پیل اس قسم کے نکمے جھگڑوں کو روکنا چاہتا ہوں۔تم کو کیا معلوم ہے کہ قوم میں تفرقہ کے خیال سے بھی میرے دل پر کیا گزرتی ہے؟ تم اس درد سے واقف نہیں۔تم اس تکلیف کا احساس نہیں رکھتے جو مجھے ہوتی ہے۔میںیہ چاہتا ہوں اور خدا ہی کے فضل سے یہ ہو گا کہ میں تمہارے اندر کسی قسم کے تنازعہ اور تفرقہ کی بات نہ سنوں۔بلکہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھوں کہ تم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا عملی نمونہ ہو (اٰ ل عمران : ۱۰۴)دیکھو ایسے چھوٹے چھوٹے مسئلوں پر یقین کے ساتھ پہنچنا تم میں سے بہتوں کو نصیب نہیں ہو سکتا۔صحابہ کے آثار پڑھو کم از کم مؤطا امام محمد اور آثار امام محمد ہی کو پڑھ لو۔صحابہ ایسے مسائل جزویہ میں اپنے ذوق کے موافق ترجیح دے لیتے تھے مگر یہ مسائل ان میں اختلاف کا باعث نہ ہوتے تھے۔میں پھر تمہیں کہتا ہوں جو سنتا ہے وہ سن لے اور دوسروں کو پہنچا دے کہ جھگڑا مت کرو ہم مر جائیں گے پھر تمہیں بہت سے موقعے جھگڑے کے ہیں !!! تم سمجھتے ہو میں حضرت ابوبکرؓ کی طرح آسانی سے خلیفہ بن گیا ہوں؟ تم اس حقیقت کو سمجھ نہیں سکتے اور نہ اس دکھ کا اندازہ کر سکتے ہو اور نہ اس بوجھ کو سمجھ سکتے ہو جو مجھ پر رکھا گیا ہے۔یہ خدا کا فضل ہے کہ میں اس بوجھ کو برداشت کر سکا۔تم میں سے کوئی نہیں جو اس کو برداشت تو ایک طرف محسوس بھی کر سکے۔کیا وہ شخص جس کے ساتھ لاکھوں انسانوں کا تعلق ہو آرام کی نیند سو سکتا ہے؟ اتنے