خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 429 of 660

خطابات نور — Page 429

حَبْلُ اللّٰہکو مضبوط پکڑ لو اور سب کے سب مل کر مجموعی طاقت سے حبل اللہ کو پکڑو اور تفرقہ نہ کرو۔یہ آیت میں آج تم پر تلاوت کرتا ہوں اور پھر سناتا ہوں تم خدا کی حبل کو مل کر مضبوط پکڑے رکھو اسے چھوڑو نہیں اور اس سے جدا نہ ہو اور نہ باہم تفرقہ کرو۔ایک مرتبہ مجھے ایک مدرسہ میں لڑکوں کو وعظ کرنے کے لئے کسی نے کہا میں نے اس سے پہلے رسہ کشی کی کھیل نہ دیکھی تھی۔اس روز لڑکے رسہ کشی کا کھیل کھیل رہے تھے ہر ایک طرف کے لڑکوں نے بڑا زور لگایا اور وہ کہتے تھے کہ مل کر زور لگائو جس طرف کے لڑکوں نے کمزوری دکھائی وہ ہار گئے۔اس وقت مجھے اس آیت کی تفسیر معلوم ہوئی۔دین اسلام میں جس کو حبل اللہ کہا گیا ہے قرآن مجید ہے۔آریہ، برہمو، سناتن، مسیحی، دھریہ، ملحد بھی اس رسہ کو زور سے کھینچ رہے ہیں اور زور لگا کر اپنی طرف لے جانا چاہتے ہیں دوسری طرف تم نے اس حبل اللہ کو پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔پس تم اس دعویٰ کو بلا دلیل نہ رہنے دو اور پوری طاقت وہمت اور یک جہتی سے اس کو مضبوط پکڑ کر زور لگائو ایسا نہ ہو کہ وہ مخالفین اسلام اس رسہ کو لے جائیں (خدا نہ کرے ایسا ہو) اس رسہ کو مضبوطی سے پکڑے رہنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید تمہارا دستور العمل اور ہدایت نامہ ہو۔تمہاری زندگی کے تمام مرحلے اس کی ہدایتوں کے ماتحت طے ہوں۔تمہارے ہر ایک کام ،ہر حرکت وسکون میں جو چیز تم پر حکمران ہو وہ خدا تعالیٰ کی یہ پاک کتاب ہو جو شفا اور نور ہے۔یاد رکھو دنیا ایک مدرسہ ہے اس مدرسہ میں وہی کامیاب ہوں گے جو حبل اللہ کو ہاتھ سے نہ دیں گے اور مل کر زور لگائیں گے اس وقت بہت بڑی ضرورت ہے کہ مسلمانوں میں عملی زندگی پیدا ہو اور ان کے تفرقہ مٹ جاویں میں پھر تمہیں اللہ کا حکم پہنچاتا ہوں سنو اور غور سے سنو! ۔تفرقہ مت کرو: دیکھو تفرقہ نہ کرو اگر تفرقہ کرو گے تو جانتے ہو اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟یہ حبل اللہ تمہارے ہاتھ سے نکل جائے گی اور اس کے ساتھ ہی تم بھیبودے ہو جائو گے خدا تعالیٰ فرماتا ہے (الانفال :۴۷) تنازعہ کرو گے تو بودے ہو جائو گے اور تمہاری ہوا نکل جائے گی پھر تمہارا جتھا ٹوٹ کر قوت منتشر ہو جائے گی اور دشمن