خطابات نور — Page 428
پہلی نصیحت متقی بنو اور مسلم مرو: میںنے آیت پڑھی ہے (اٰل عمران :۱۰۳)۔یاد رکھو آج کا دن کل کے دن کی آمد کی تیاری <mark>کر</mark> رہا ہے۔اس وقت شام کی تیاری ہو رہی ہے۔یہ وقت جب تک نہ گزر <mark>جا</mark>ئے شام نہ ہو گی۔مرتے وقت غشی بھی ہوتی ہے۔طب والے کہتے ہیں کہ اس وقت غشی کی حالت ہوتی ہے جبکہ گھر والے پکارتے ہیں کہ تم نے مجھے پہچانا ہے مرنے والا دیکھتا ہے مگر کہتا کچھ نہیں اس وقت وہ اسی غشی کی سی حالت میں ہوتا ہے۔پس جبکہ انسانی زندگی کا ہر لمحہ موت کے قریب <mark>کر</mark> رہا ہے تو انسان کو چاہئے کہ اس کی تیاری <mark>کر</mark>ے۔اس لئے اس آیت میں یہ ہدایت کی ہے کہ تقویٰ اختیار <mark>کر</mark>و اور ایسا تقویٰ جو تقوی اللہ کا حق ہے اور یاد رکھو کہ تمہیں ایسی حالت میں موت آوے کہ تم مسلمان ہو۔چونکہ انسان کو معلوم نہیں کہ موت کی گھڑی کس وقت آ<mark>جا</mark>وے اس لئے اس آیت پر <mark>عمل</mark>درآمد اسی حالت اور صورت میں ہو سکتا ہے کہ انسان ہر وقت اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار رہے اور کامل متقی ہو۔تقویٰ اللہ کیا ہے؟ عقائد صحیحہ ہوں اور ان عقائد کے موافق اعمال صالحہ ہوں۔تقویٰ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان دکھوں سے بچ <mark>جا</mark>تا ہے اور سکھوں کو پا لیتا ہے۔متقی اللہ کا محب ہوتا ہے۔متقی کو تمام تنگیوں سے ن<mark>جا</mark>ت ملتی ہے۔اس کو (الطلاق :۴) رزق ملتا ہے۔متقی کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔متقی کے دشمن ہلاک ہوتے ہیں اور وہ مقابلہ دشمن میں ممتاز ہوتا ہے۔متقی پر الٰہی علوم کھولے <mark>جا</mark>تے ہیں۔پس میں بھی پہلی نصیحت یہی <mark>کر</mark>تا ہوں کہ متقی بنو‘ متقی بنو۔ہاں اللہ تعالیٰ کے لئے متقی بنو اور تم اللہ تعالیٰ کے سچے فرمانبردار بن <mark>جا</mark>ئو اور اسی فرمانبرداری پر تمہارا خاتمہ ہو۔یہ فرمانبرداری عجیب نعمت ہے ابو الملۃ ابراہیم <mark>علیہ</mark> السلام پر تمام برکتیں اسی فرمانبرداری کی وجہ سے نازل ہوئیں (البقرۃ :۱۳۲) اس لئے تم بھی اگر برکات سماوی سے بہرہ اندوز ہونا چاہتے ہو تو متقی بنو اور تقویٰ کی حقیقت سچے مسلمان میں پیدا ہوتی ہے۔پس تم بھی مسلم بنو اور تمہارا خاتمہ اسلام پر ہو۔دوسری نصیحت حبل اللہ کو پکڑو اور تفرقہ نہ <mark>کر</mark>و: پھرفرمایا: (اٰل عمران :۱۰۴)