خطابات نور — Page 421
ان میں اس طرح پر تفسیر کی ہو کہ ایک آیت کی تفسیر دوسری آیت سے ہو۔اور پھر اس کے بعد میںاس تفسیر کو مقدم کرتا ہوں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک کلمات سے کی گئی ہو۔ایک زمانہ مجھ پر ایسا بھی گزرا ہے کہ ایک تفسیر کے شوق میں میں بمبئی گیااور ایک دوست سے اس کے متعلق پوچھااس نے کہا ہاں مل سکتی ہے۔دوسرے دن جب میں اس دوست کے پاس گیا تو گو میں طالب علم تھا تاہم اللہ تعالیٰ نے مجھے طالب علمی کے زمانہ میں بھی مالدار رکھا ہے میں جیب میں کچھ روپیہ ڈال کر لے گیا میں نے اس دوست سے کہا کہ وہ کتاب آئی ہے تو عطا کرو۔انھوں نے کہا کہ ہاں کتاب تو آگئی ہے مگر اس کی قیمت پچاس روپیہ ہے۔اس کتاب کے ساٹھ صفحہ ہیں اور ایک اس کا ضمیمہ ہے۔اس کے ۵۸ صفحہ ہیں۔میں نے کہا بہت اچھا لایئے۔اور میں نے پچاس روپیہ کا نوٹ اس کے ہاتھ میں دے دیا وہ بولے کہ وہ کتاب طبع شدہ ہے اور اسی شہر بمبئی میں چھپی ہے۔میں نے کہا اچھا ہے اس پر انھوں نے وہ کتا ب مجھے دی اور میں اس کو لے کر فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور تھوڑی دیر کے لئے باہر چلا گیا۔وہاں تیلی کی گلی مشہور ہے اس کا یہ واقعہ ہے۔پھر میں اندر گیا تو وہ حیران ہوا اور پوچھا کہ آپ باہر کیوں چلے گئے تھے میں نے کہا فقہی بحث ہے کہ تکمیل بیع کے لئے تفارق جسمی بھی قول کے ساتھ ضروری ہے یا نہیں۔محدثین اور شوافع کا قول ہے کہ تفارق جسمی بھی چاہئے میں نے اس پر عمل کر لیا۔اس لئے باہر گیا تھا تاکہ بالاتفاق کتاب میری ہو جاوے۔میری ۳۵ویںپشت میں میرے ایک دادا نے اس مسئلہ پر عمل کیا تھا میں نے اس کی سنت ادا کر لی۔پھر ا س نے پوچھا کتا ب کو بھی دیکھا میں نے کہا ’’جمادے چند دیدم جاں خریدم‘‘ اس کتاب کا نام مجھے قدرت ہی نے سکھادیا تھا میں جب اس دوست کے پاس اٹھنے لگا تو اس نے کہا میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔میں نے جواب دیا کہ آپ کی مہربانی ہے۔تب اس نے کہا کہ اظہار محبت میں یہ پچاس روپیہ نذر کرتا ہوں۔میں نے کہا کہ میں ہوں تو طالب علم مگر میری جیب میں اب بھی روپیہ موجود ہے۔اس نے بہر حال وہ پچاس روپیہ واپس کر دیا۔اسی طرح پر جب میں مدینہ طیبہ میںگیا تو ایک ترُک کو مجھ سے بہت محبت تھی اس نے کہا کہ اگر کوئی کتاب آپ کو پسند ہو تو ہمارے کتب خانہ سے لے جایا کریں گو ہمارا قانون نہیں ہے مگرآپ