خطابات نور — Page 413
لئے کہتے ہیں اور وہ مجھے سمجھتے ہیںکہ گویا میں خدا کا کوئی ایجنٹ ہوں حالانکہ میں ایک عاجز بندہ ہوں۔میری ماں ایک زمیندار اعوانی تھی ہاں وہ کچھ پڑھی ہوئی تھی۔میرا باپ ایک غریب آدمی تھا جو اپنی ضروریات کے لئے تجارت کرلیتا تھا اور بہت ہی مختصر تجارت کرتا تھا۔پھر میں کہاں سے خدا کا ایجنٹ آگیا۔ہاں مجھے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کرنا آتا ہے۔اس نے مجھے طرح طرح سے دعائیں کرنا سکھایا ہے اور دعائوں کی ترکیبیں بتائی ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی ہے اور میں کبھی کبھی قبولیت کے اثر بھی دیکھتا ہوں لیکن جب بعض لوگ شرک کی حد تک پہنچتے ہیں تو میں ان کے لئے دعائوں سے مضائقہ کرتا ہوں۔میں علم غیب نہیںرکھتااگر مجھے علم غیب ہوتا تو میں اپنے لئے ہر قسم کی بھلائیاں جمع کرلیتا۔میں فرشتہ بھی نہیں اور میرے اندر فرشتے نہیں بولتے۔پس اللہ تعالیٰ ہی تمہارا معبود ہو۔اللہ تعالیٰ کا علم قریب اوربعید، مخفی اور ظاہر سب رنگ میں وسیع ہے اور بہت ہی بڑا وسیع ہے۔خدا کا تصرف بہت بڑا تصرف ہے جو چاہتا ہے کردیتا ہے۔اس کے تصرف کا ایک نظارہ یہاں موجود ہے۔تم بھی مرزا کے مرید ہو میں بھی اسی کا مرید تھا پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں پکڑ کر میری طرف جھکا دیا۔کسی کا اس میں احسان نہیں قطعاً نہیں۔کیا میری خواہش تھی؟ ہرگز نہیں نہ میرے وہم و گمان میں تھی نہ تمہاری خواہشوں سے یہ ہوا۔ابھی بیمار ہوں ڈاکٹروں نے کہا کہ بچنے کی کوئی امید نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے حیاتی دی۔اسی سے دعا ہے، اسی کے لئے سجدے اور قربانیاں ہیں۔کوئی روزہ ، نماز ، دعا ، وظیفہ ، طواف ، قربانی اللہ کے سوا دوسرے کے لئے جائز نہیں مگر بے ایمان شریر لوگوں نے شرک کے اندر سمجھا دیا کہ قبروں پر جائو اور جاکر کہو کہ تم ہمارے لئے عرض کرو۔یاد رکھو! اسلام نے یہ نہیں سکھایا۔پس شرک چھوڑ دو اور مجھے خدا کا ایجنٹ مت سمجھو۔پھر یہ معاہدہ ہے چوری مت کرو۔تم میں سے بہت سے چور ہیں۔نوکرہیں اگر وہ فرائض منصبی کو ادا نہیں کرتے تو وہ چور ہیں۔تاجر جو تجارت کرتے ہیں اور حساب نہیں رکھتے ان کے مال میں ضرور چوری کا حصہ ہے۔تمہاری شراکتیں ہیں پیچھے جوت چلتا ہے اس لئے کہ تمہارے اندر حلال کھانے کی توجہ کم ہے۔تم اس سے واقف نہیں ایک کسب والا اگر اپنے کسب میں شرارت کرتا ہے وہ چوری کرتا ہے اور اکل بالباطل کرتا ہے۔