خطابات نور — Page 414
پھر بدکاریوں کے نزدیک نہیں جائوں گا۔بدکاریاں آنکھ کی، ناک کی، زبان کی، کان کی بھی ہوتی ہیں۔پس تم ان کے نزدیک نہ جائو۔بہتان کسی پر مت باندھو۔ابودائود میں ایک حدیث ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تمہاری طبائع ، خواہشیں، چال چلن، لباس ، خوراک مختلف ہے۔… تمہاری تربیت مختلف ہے تو ان اختلافوں کی وجہ سے ایک دوسرے کی بدی مجھ تک مت پہنچائو۔میں بھی تمہیں کہتا ہوں کہ تم میرے پاس مت پہنچائو۔بعض لوگ میرے پاس ایک دوسرے کی بدی پہنچاتے ہیں۔وہ لوگ تم میں سے سخت شریر ہیں، گندے ہیں، بدبخت ہیں جو دو آدمیوں کو باہم لڑانا چاہتے ہیں۔انہیں چاہیے کہ وہ توبہ کرلیں ورنہ خدا کی لعنت برسے گی۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (الانفال:۴۷) باہم تنازعہ نہ کرو ورنہ تم پھسل جائو گے۔تمہارا کوئی اختلافی مسئلہ نہیں جس کا میں محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے فیصلہ نہیں کرسکتا۔تم فیصلہ نہیں کر سکتے خدا نے مجھے علم دیا ہے تم میں بعض بے علم ہیں۔خدا نے مجھے فہم دیا ہے تم میں بعض بے فہم ہیں۔تم میں سے بعض ایسے گندے ہیں کہ انہوں نے مجھے سخت دکھ دیا ہے۔انہیں کھول کر کہتا ہوں کہ پر عمل کرو۔وَاِلَّا (الانفال:۴۷) تم بودے ہوجائو گے۔تمہاری ہوا بگڑ جائے گی۔تم میں سے بعض نے مجھے دکھ دیا ہے۔ان خبیث تحریروں کو پڑھ کر مجھے نفرت ہوئی ہے۔چھوٹے چھوٹے لڑکے واعظ بن کر مجھے سمجھاتے ہیں جو سنتے ہیں وہ توبہ کرلیں اور جو نہیں سنتے انہیں پہنچا دو اور سمجھا دو۔عید کا دن میاں کہتا ہے خوشی کا دن ہوتا ہے مگر تم نے مجھے رنج دیا ہے۔تنازعہ چھوڑ دو۔تم کہتے ہو کہ مجھے دوسرے نے دکھ دیا ہے مگر اللہ کہتا ہے کہ پھر تم صبر کرو۔صبر کی تعلیم اسی لئے تو دی تھی کہ جب دوسرے سے دکھ پہنچے تو صبر کرو۔پھر وہ صبر کیوں نہیں کرتا۔ایک پرائیویٹ چٹھی لکھتا ہے تو اس پر کالم کے کالم سیاہ نہ کرو بلکہ صبر کرو۔صبر کے سوا لڑائی ختم نہیں ہوتی۔میں نہیں سمجھتا کہ میرا مرید کون ہے۔تم اتنے بیٹھے ہو مجھے کیا خبر ہے۔ہاں میرا مرید وہی ہے جو ان معاہدات پر عمل کرتا ہے جو اس نے مجھ سے کئے ہیں اور جوحضرت صاحب سے کئے ہیں۔میں کسی کی پرواہ نہیں کرتا۔میرے ڈاکٹر دوستوں نے میرے زخم کے لئے کوشش کی مگر باجرہ کے دانہ کے برابر اب تک باقی ہے اور ان کی