خطابات نور — Page 37
میں سچ کہتا ہوں کہ زندہ نہیں رہ سکتا۔اور پھر اس کے فضلوں میں سے ایک عظیم الشان فضل مجھ پر یہ بھی ہے کہ اس نسخہ کا سچا عامل اور حاذق طبیب جو اس زمانہ کے مریضوں کے لئے مسیح ہے۔اس کا مجھے پتہ دیا اور نہ صرف پتہ بلکہ اس کی خدمت میں پہنچا کر مجھے موقع اور توفیق دی کہ میں اپنی روحانی امراض کا علاج کروں۔چنانچہ میں یہ ساری باتیں تحدیث بالنعمت کے طور پر ظاہر کرتا ہوں کہ میں نے اس کی صحبت میں رہ کر اپنی بہت سی بیماریوں سے خدا کے فضل سے شفاء پائی اور بہت سے امراض ہیں جو دور ہورہے ہیں۔میں چونکہ اصول علاج سے واقف اور تجربہ کار ہوں۔اس لئے میں جو کچھ کہوں گا وہ خیالی اور فرضی باتیں نہیں ہوسکتیں ہیں اور میں اس لئے بیان کرتا ہوں کہ شاید کسی کو فائدہ پہنچ جاوے۔قرآن شریف کو غور سے پڑھنے اور اس زمانہ کی حالت پر فکر کرنے کے بعد جبکہ وہ نازل ہوا میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جس قدر امراض روحانی طور پر ہوسکتے ہیں اور میرا تو یقین ہے کہ جسمانی بھی وہ سب کے سب اس نسخہ کے استعمال سے پیدا ہی نہیں ہوتے اور اگر ہوچکے ہوں تو دور ہوجاتے ہیں لیکن اس کے لئے ضرورت ہے صدق کی، ضرورت ہے استقلال اور صبر کی، ضرورت ہے حسن ظن کی۔یہ ایک عام اصول ہے کہ ہر مریض کو ضروری ہے کہ وہ کسی تجربہ کار طبیب کے حضور حاضر ہو اور اس طبیب کو ضروری ہے کہ تجربہ شدہ نسخہ اس کے علاج کے لئے استعمال کرے۔دنیا میں جس قدر امراض اس وقت ہیں یا تاریخ شہادت دیتی ہے کہ ہوچکی ہیں وہ سب کی سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود تھیں۔سب سے بڑھ کر قابل عزت و عظمت اللہ تعالیٰ کی کتاب ہوسکتی ہے اور ہے لیکن اس زمانہ میں اللہ کی کتاب ایسی چھوٹ گئی تھی کہ کتاب اللہ کا کہیں پتہ ہی نہیں ملتا تھا۔چنانچہ طبقات الارض کے محققوں کو بھی باوجود یکہ انہوں نے زمین کو کھود ڈالا اس کا پتہ نہ ملا بلکہ صرف ترجمہ در ترجمہ در ترجمہ رہ گئے۔جس سے ایک آدمی جو سمجھدار ہو اندازہ کرسکتا ہے کہ وہ لوگ جو اہل کتاب کہلاتے تھے کن مشکلات اور مصائب میں مبتلا تھے۔وہ قوم جو اپنی عقلوں اور علوم پر آج ناز کرتی ہے۔اپنی صفتوں اور ملمع سازیوں پر اتراتی اور خدائی کے دعوے کرتی ہے۔اس کا یہ حال کہ بغل میں جو کچھ لئے پھرتی ہے اس کے اصل کا ہی پتہ نہیں۔مذہب کا معاملہ ایمان کا معاملہ ابدی رنج و راحت کا سوال مگر افسوس اس کے حل کرنے کی کلید روحانی امراض کا شفا بخش نسخہ خدا کی کتاب پاس نہیں اور