خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 405 of 660

خطابات نور — Page 405

انجمنوں کے کارکنان کو نصیحت {تقریر فرمودہ ۲۷؍دسمبر ۱۹۱۰ء بعدنماز مغرب} ۲۷؍دسمبر ۱۹۱۰ء کی شام کو بعد نماز مغرب حضرت خلیفۃ المسیح مدّظلّہٗ العالی نے تمام انجمنوں کے سیکرٹری اور میر مجلس صاحبان کو حاضر آنے کا ارشاد فرمایا تھا چنانچہ سب لوگ آچکے تو باوجود یہ کہ آپ کو بہت ضعف تھا آپ نے مندرجہ ذیل تقریر فرمائی۔(ایڈیٹر) میں نے آپ لوگوں کو ایک خاص وجہ کے لئے بلایا ہے۔سال گزشتہ میں میرے دل پر ایک رنجیدگی تھی کہ آپ لوگ مجھ سے نہیں ملے تھے اس لئے میں نے چاہا تھا کہ اگر سال آئندہ زندہ رہوں تو آپ کو ملامت کروں گا۔یاد رکھو قوم میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک نافہم دوسرے وہ جن کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے فہم بخشتا ہے نافہموں کی میں ایک مثال سناتا ہوں۔ایک عورت حضرت صاحب (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کے پاس آئی اور میں نے عورتوں سے سنا کہ اس نے ایک سو روپیہ حضرت کو نذر دیا۔قدرت الٰہی سے وہ عورت میرے پاس بھی آئی اس کے ساتھ ایک جوان خوبصورت لڑکی بھی تھی اس عورت نے مجھ سے کہا کہ میرے لئے آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اولاد دے۔میں اس لڑکی کو دیکھ کر سمجھا کہ یہ اس کی لڑکی ہے اس لئے میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کس کی لڑکی ہے اس نے کہا کہ میری ہی ہے مگر میرے اولاد نہیں۔میں اس کے اتنے ہی فہم پر تعجب کرتا تھا کہ یہ لڑکی کو اولاد ہی نہیں سمجھتی اس پر میں نے چاہا کہ اس کی تسلی کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ اسے سنائوں کہ آپؐ کی بھی لڑکی ہی تھی۔اس لئے میں نے اس سے پوچھا کیا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتی ہے اس نے جواب دیا جی میں پڑھی ہوئی نہیں (گویا اس کے خیال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جاننا صرف پڑھنے ہی پر موقوف ہے)