خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 36 of 660

خطابات نور — Page 36

اگر کسی کے سر میں چوٹ لگ جاوے تو اس کی قوت حافظہ متفکّرہ اور دوسرے عقلی قویٰ میں فتور آجاتا ہے۔انسان اگر بیرونی حوادث سے متاثر ہو تو اس کی روح پر بھی ایک اثر ہوتا ہے اور اس کے قلب میں رقت پیدا ہوجاتی ہے۔غرض اس امر کی بہت سی مثالیں ہیں اور اس پر مجھ کو کسی لمبی بحث کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ایک عام مسلّم بات ہے۔جس طرح پر جسمانی امراض بے شمار ہیں۔اسی طرح روحانی امراض بھی کثرت سے ہوتی ہیں اور ہر عضو اور قوت کی جداجدا بیماریاں ہوتی ہیں۔بہت سی بیماریاں ایسی ہوتی ہیں کہ انسان ان کو بالکل معمولی باتیں سمجھتا ہے لیکن وہ اندر ہی اندر اپنی باریک رفتار سے بہت سی روحانی قوتوں کا ستیاناس کردیتی ہیں اور آخر روحانی طور پر انسان کو ہلاک کردیتی ہیں۔پس جیسے کسی جسمانی عارضہ کو گو وہ کیسا ہی خفیف کیوں نہ ہو کبھی خفیف نہیں سمجھنا چاہئے اور تجربہ کار اور حاذق طبیب کی صحبت میں رہ کر اس کے مشورہ اور ہدایت کے موافق علاج اور پرہیز کے اصول مدنظر رکھ کر علاج کرنا ضروری ہے۔اسی طرح پر روحانی امراض کے علاج کی فکر چاہئے۔علاج کرانے کے اصول اس میں بھی وہی ہیں جو جسمانی علاج کے ہیں یعنی بدظنی نہ ہو، شتاب کاری، بد پرہیزی اور اپنی یا کسی اور کی رائے کا تقدّم طبیب کی رائے پر نہ ہو۔ایسا مریض فائدہ اٹھانے کی توقع کرسکتا ہے اور فائدہ اٹھاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے مجھے موقع دیا ہے کہ امراض اور ان کے علاج کا ایک علم اور تجربہ مجھے عطا فرمایا اور ایک فقیر سے لے کر بادشاہ‘ جاہل سے لے کر عالم غرض ہر طبقہ اور عمر کے لوگوں کے امراض اور ان کے طرز علاج کا علم سیکھا اور چونکہ جسمانی اور روحانی امراض کے اصول ایک ہی ہیں۔محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے باریک در باریک روحانی امراض کا علم بھی مجھے دیا گیا ہے اور میں مولیٰ کریم کی حمد کرتا ہوں اور اس کا شکر گزار ہوں کہ اس نے جیسے مجھے امراض کا علم عطا کیا۔اس کے علاج کی طرف بھی توجہ دلائی اور تمام قسم کے روحانی امراض کا مجرب نسخہ میں نے پالیا۔وہ مجرّب نسخہ خدا تعالیٰ کی پاک کتاب قرآن شریف ہے۔جس کا نام رحمت، ہدایت، شفا، نور، فرقان، کتاب منیر وغیرہ وغیرہ ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ بھی احسان کیا کہ اس نسخہ کا عشق اور محبت میرے دل میں ڈال دی اور اس رحمت اور شفا کتاب کو میرے لئے روحانی غذا بنادیا جس کے بغیر