خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 378 of 660

خطابات نور — Page 378

نام نہیں آیا تھا۔میں نے اسے دیکھ کر عبدالواحد اور اس فلسفی کو کہا کہ آج یہ پہلا خط ہے اور یہ میرے الہام کی تصدیق کرتا ہے، اسے تم آپ کھولو۔انہوں نے کھولا اور پڑھا تو اس میں لکھا تھا خربت خیبر ای قادیان۔یہ اس نے اپنا الہام لکھا جس میں قادیان کا نام خیبر رکھا گیا ہے۔میں نے کہا۔جب یہ قادیان کو خیبر کہتا ہے تو دمشق کہنے میںکیا حرج ہے۔عبدالواحد نے فوراً لکھ دیا کہ یہ خر دماغ ہے۔میں نے کہا کہ نہیں۔تم اس کا ادب کرو۔وہ جانتا تھا کہ عبدالرحمن لکھو کے والے محتاط ہیں وہ اگر خط لکھیں گے تو سوچ کر لکھیں گے۔مگر اللہ تعالیٰ بڑی طاقت ہے۔اس کا بھی دوسری تیسری ڈاک میں خط آگیا۔انہوں نے مجھے لکھا کہ ہم تمہیں اچھا سنتے تھے مرزا صاحب کے ساتھ تمہارے تعلق سے رنج ہوا۔ہم نے اللہ سے توجہ کی کہ اس معاملہ کو صاف کردے۔اس پر جو الہام ہمیں ہوئے ہیں وہ بلاکم و کاست نیچے لکھ دئیے ہیں۔پھر نیچے وہ الہامات لکھے تھے ان میں سے ایک یہ تھا۔ما سمعنا ھٰذا فی ملۃ الآخرۃ۔یہ کفار کا قول ہے جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں آپ کی تعلیم کے متعلق کہا اور اعتراض کیا۔پھر خود ہی ان کو دبدھا پڑی کہ یہ تو ہمیں ابوجہل بتاتا ہے۔ہو نہ ہو اس میں استعارہ ہے اس لئے اس کے معنے بتائے۔ای الملۃ المحمدیۃ۔میں نے عبدالواحد سے کہا۔اب بتائو تیرہ سو برس میں یہ معنے کسی نے نہیں کئے۔اس پر اس نے کہا کہ آپ تو معذور ہیں۔اس واقعہ سے وہ شخص جس نے کہا تھا کہ میں ایسے خدا کا قائل نہیں بول اٹھا کہ میں تو خد اتعالیٰ کا قائل ہوگیا۔مجھے اس سے بڑی خوشی ہے۔وہ شخص اب بھی ہماری جماعت میں ہے اور ایک مخلص دوست ہے۔غرض خدا تعالیٰ نے مجھے بہت سے نشانات دکھائے ہیں اور تم سب اس راستباز کی صداقت کا نشان ہوئے۔پس مولوی صاحب نے تحریک کی کہ میں یہاں نماز پڑھوں۔میں اپنے اخلاص کو دیکھتا تھا کہ مخلصانہ وقت میسر آجاوے تو میں آئوں گا۔پس خدا تعالیٰ نے مجھے وہ اس وقت دیا اور میں یہاں آیا ہوں۔میں نے اس مسجد کی اینٹ رکھی تھی۔اس وقت بھی میرے دل میں اسس بنیانہ سے التقویٰ ہی