خطابات نور — Page 366
ہے تہذیب ہے۔استبصار اور من لا یحضر، مجمع البیان، طبرسی اور نہج البلاغۃ جناب امیر کے خطبات ہیں۔ان کے مد مقابل خوارج ہیں۔ان کی کتابیں بھی میں نے پڑھی ہیں۔ایک ترانوے جلدمیںہے اور میرے پاس ہے۔(اس کتاب کی ترانویں جلدیں سن کر ایڈیٹر الحکم نے استعجاب سا ظاہر کیا۔اس پر فرمایا)۔کہ ایک سیاح استنبول کا یہاں آیا اور پہلے وہ سلطان روم کے کتب خانہ کی بڑی تعریف کرتا تھا۔لیکن جب اس نے میرے کتب خانہ کو دیکھا تو کہنے لگا کہ وہ کیا چیز ہے۔غرض ان کتابوں کو اس وسعت سے دیکھا ہے۔پھر سنیوں میں مذاہب اربعہ ،صوفیوں اور محدثین کا مذہب پڑھا ہے اور ان سب کو پڑھ لینے کے بعد میں ایماناً کہتا ہوں اور کھول کر سناتا ہوں اور یہ اس لئے کہ میں نہیں جانتا کہ آئندہ ہم سے کون ہوگا اور کون نہیں مجھے کچھ کہنے کا اور تمہیں کچھ سننے کا موقع ملے یا نہیں۔اس لئے سنو اور غور سے سنو کہ اس تحقیقات اور تجربہ کے بعد میں علیٰ وجہ البصیرت اقرار کرتا ہوں کہ قرآن کریم جیسی کوئی نعمت اور کتاب نہیں۔وہ خدا تعالیٰ کی کامل کتاب ہے اور وہ تمام اختلافات مٹانے کا کامل ذریعہ ہے اور وہ خود اختلافات کا باعث نہیں۔اس کے ساتھ ہی میں اس شہادت کو بھی علیٰ وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ بعد کتاب اللہ بخاری جیسی بھی کوئی کتاب نہیں۔میں نے سرسید احمد صاحب کو سو روپیہ اس لئے دیا تھا کہ تم جو تصنیف کرومجھے بھیج دو۔آخری دم تک اس نے اپنے وعدے کو پورا کیا ہے۔میں نے اس کی تصنیفات کو خوب پڑھا ہے۔میں دنیا کے مقتدائوں سے بے خبر نہیں۔برہم ازم کی کتابیں پڑھی ہیں سب سے بڑی کافر قوم برہمو ہے۔میں اس کو مذہبی رنگ میں آریوں اور عیسائیوں سے زیادہ خطرناک سمجھتا ہوں۔لوگ کہتے ہیں کہ براہمو نرم ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ یہ بہت ہی گرم ہیں۔یہ الٰہی غضب کے نیچے ہیں۔جو تمام انبیاء علیہم السلام کو مکالمہ الٰہیہ کے دعویٰ میں جھوٹا سمجھتے ہیں۔میں یہ بھی علم اور بصیرت سے کہتا ہوں۔میں نے ان کی کتابوں کو درستی سے پڑھا ہے۔یہ چھوٹی چھوٹی کتابیں لکھتے ہیں۔میں انہیں چند منٹ میں پڑھ لیتا ہوں۔انہوں نے انبیاء علیہم السلام کو کذّاب (معاذاللہ) مانا ہے اور جو کچھ نرم ہیں،انہوں نے دعویٰ رسالت کو جنون یا دروغ