خطابات نور — Page 363
بخش چیزیں ہیں کہ مجھے تو اس سے بڑھ کر کوئی خوشی اور خواہش نہیں ہوسکتی اور کوئی لذت اس علم کی لذت کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔میں خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھے یہ علم دیا ہے۔اس نے مال دیا تو اس قدر کہ اور حاجت نہیں۔بے اعتنائی دی تو ایسی کہ ایک ہزار رکھنے کی جانچ نہیں۔تم خود دیکھ لو کہ کوئی عزت تمہارے دل میں بھی ہے۔پھر کیا میںتمہاری کسی بھی چیز کا حاجت مند یا لالچی ہوں اگر میں جھوٹ کہتا ہوں تو کہہ دو۔پس میں جو کچھ کہتا ہوں دردِدل سے کہتا ہوں۔یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کو علیم یقین کرنا ہر بدی سے روکتا ہے۔اللہ تعالیٰ قدوس ہے۔پاک لوگ ہی اسی سے تعلق پیدا کرسکتے ہیں اور وہ پاکوں کو اپنا بناتا ہے کیونکہ پاک کو پلید سے کیا نسبت۔جس قدر چیزیں پلیدی کا موجب ہیں ان سے قطع تعلق کرناتو اس کا آسان گُر یہ ہے کہ سبوح قدوس کا مطالعہ کرو۔جب انسان یہ یقین کرلیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک ہی اس سے تعلق قرب پیدا کرسکتے ہیں تو وہ بدیوں اور ناپاکیوں سے بچنے کی توفیق پاتا اور پاک فرشتے اس سے اپنا تعلق بڑھاتے ہیں۔میں تو اس کے فضلوں کو دیکھ دیکھ کر قربان ہوجاتاہوں اور یہ سب اسی کے رحم کا نتیجہ ہے۔اعلیٰ سے اعلیٰ کھانے بتانے جانتا ہوں۔بادشاہوں کو میں نے بتایا کہ اعلیٰ سے اعلیٰ پلائو اور روٹی کس طرح پک سکتی ہے۔پھر ان کا استعمال میں نے کیوں نہ کیا ہو؟ ایسا ہی اعلیٰ درجہ کے لباس کی کتربیونت بھی جانتا ہوں اور اسے پہن کر دیکھا ہے۔تو پس یہ اعلیٰ سے اعلیٰ راحت اور آرام کیونکر ملتا ہے۔انبیاء علیہم السلام کی اطاعت پر۔ایک دہریہ قرآن کریم کے طفیل بچ گیا: میں کس طرح پر قرآن کریم پر عمل کرنے کی روح تمہارے اندر پھونک دوں۔یہ خدا ہی کا کام ہے۔ایک مرتبہ ایک دہریہ نے مجھے کہا کہ میں کہیں باہر جاتا ہوں کوئی نصیحت کرو۔میں نے اس کو کہا کہ تم قرآن شریف پر عمل کرلیا کرو۔اسے ایک آسودہ جماعت کے ساتھ ایک جگہ جانے کا اتفاق ہوا۔وہاں عیاشی کے سامان تھے۔سب ساتھ والے آتشک میں مبتلا ہوگئے وہ بچ گیا۔جب واپس آیا تو میں نے کہا کہ تم کس طرح بچ گئے۔اس نے کہاکہ میں خدا کو