خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 32 of 660

خطابات نور — Page 32

دوسری دوسرے سے باندھ کر ان کو الگ الگ چلا دیا اور اس کو اس طرح پر پھڑوا کر مروا ڈالا۔دیکھو وہ کیسے مبارک لوگ تھے۔اس قرآن کریم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر کیا کیا تکلیفیں برداشت کیں اگر تمہارے کسی پیارے شخص کی کوئی چٹھی آوے تو جب تک تم اسے پڑھ یا پڑھا نہ لو تمہیں چین نہیں آتا۔قرآن اللہ تعالیٰ کی چٹھی اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا عظیم الشان شخص لانے والا مگر اس کی کچھ پرواہ نہیں کی جاتی۔پیاریو! اللہ تعالیٰ بڑا نکتہ گیر اور نکتہ نواز ہے ہر وقت اس سے ڈرنا چاہئے۔میں تمہیں ایک آپ بیتی کہانی سناتا ہوں شاید تم میں سے کوئی نیک بی بی نصیحت پکڑے۔میری والدہ صاحبہ نے اسّی برس تک قرآن پڑھایا اور ان کے ہم نو بچے تھے۔ہمارے ہاں ایک بڑا مال و اسباب اور کتب خانہ بھی تھا۔جن دنوں روس اور روم کی لڑائی ہورہی تھی میں نے اپنی والدہ سے ایک روز کہا کہ اچھا ہو اگر تم اپنا ایک بچہ اس وقت قربان کردو اور اسے مسلمانوں کی مدد کے لئے لڑائی میں بھیج دو خواہ میں ہی کیوں نہ ہوں۔میری والدہ نے کہا کہ ایں! میرے جیتے جی! تم مجھ سے الگ ہو جائو نہیں ہوسکتا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سب اولادیں بجز میرے ان کی زندگی میں فوت ہوگئیں۔ایک روز میں اس کتب خانہ کے مکان میں لیٹا ہوا تھا جب کہ وہ بالکل خالی پڑا تھا۔میری والدہ صاحبہ وہاں آئیں اور انہوں نے اس حالت کو دیکھ کر بہت بلند آواز سے کہا کہ (البقرۃ :۱۵۷) میں نے کہا کہ امّاں یہ آواز کی بلندی بے صبری سے معلوم ہوتی ہے۔مجھے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے مرنے پر شاید میں بھی نہ پاس ہوں گا یا اسی کے قریب الفاظ ہیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا جب ان کا انتقال ہوا تو میں کہیں دور تھا۔غرض اللہ تعالیٰ بڑا ہی بے نیاز اور نکتہ نواز ہے تم اپنے الفاظ سمجھ کر خدا سے ڈر کر منہ سے نکالا کرو۔پھر میں دیکھتا ہوں کہ عورتیں اللہ تعالیٰ کے احکام کی بالکل پرواہ نہیں کرتیں اور اپنے رسومات کی ایسی پابند ہیں جس کی کچھ حد نہیں ہے۔ہمارے پڑوس میں ایک عورت کے گھر میں بچہ پیدا ہوا ہے۔میرا دل اس بات کو دیکھ کر حیران ہوتا ہے کہ اس نے اپنی کسی مَنّت کے واسطے قبل از تولّد اور عین تولّد پر تو بکرے ذبح کردیئے مگر جو امر مسنون اور ساتویں دن عقیقہ کرنے کا حکم تھا اس کے واسطے اس کے پاس خرچ نہیں۔کبھی اس لڑکے کا باپ آوے گا تو شاید