خطابات نور — Page 344
کے کارناموں کو دیکھو۔یہ خوش قسمتی کی بات ہے کہ کچھ عربی کے کچھ انگریزی کے، کچھ اور زبانوں کے مؤید ہیں۔یہ سب مقابلہ ہے اور ان سب کی ضرورت ہے اور ان سب کو جوش کرنا چاہئے۔آگے رہی حدبندی وہ تمہارا کام نہیں اور نہ وہ میرا کام ہے۔گو میں سب کا مؤید اور سب کا جامع ہوں بلکہ وہ اصل کام ہے۔الحکم کا بھی مؤید ، بدر کا بھی مؤید، انگریزی دانوں کا بھی مؤید، وکیلوں اور ڈاکٹروں کا بھی مؤید۔عبدالحئی کہتا ہے کہ میری کتابیں لے لو۔ایک میرا داماد ہے۔وہ کہتا ہے میرے پاس طبیب حاذق ہے وہ لے لو۔میں کروں تو کیا کروں۔ان سب کو بے شک مجھے ہی کہنا چاہئے۔تائید حق کے لئے میں نے کہا اور پھر پوچھا تو جس کے پاس تھیں۔اس نے کہا کہ تھوڑی ہی بکی ہے۔غرض حُبّ کا مضمون بہت بڑا تھا۔میں نے کاٹ کر ایسے روکا اور کم کیا۔ساری عمر میں یہ مضمون نہیں سنایا۔مگر چھوٹی سی عمر سے میں اس پر غور کرتا رہا ہوں۔اسی نے مجھے قرآن سکھایا۔اسی نے مرزا تک پہنچایا۔اب اسی جوش حُبّ میں میں چاہتا ہوں کہ اس کے لئے واعظ پیدا ہوں۔ہمارے مفتی صاحب کو بھی تم سے محبت ہے۔وہ کہتے ہیں میں آپ کو دعا سکھائوں۔جس سے حُبّ پیدا ہوتی ہے۔وہ یہ ہے۔اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ۔(ترمذی:کتاب الدعوات) اے اللہ میں مانگتا ہوں تجھ سے تیری محبت اور اس کی محبت جو تجھ سے محبت رکھے اور وہ کام جو مجھ کو پہنچاوے۔تیری محبت تک۔اس کے بعد میر حامد علی شاہ صاحب نے اپنے کشوف بتائے جو حضرت خلیفۃ المسیح وسلمہ اللہ تعالیٰ کی خلافت اور انتخاب ربانی کی تائید کرتے تھے اور بعد دعا جلسہ برخاست ہوا۔(ایڈیٹرالحکم ) (الحکم۷،۱۴،۲۱؍مارچ ۱۹۰۹ء صفحہ۵۷تا۷۸) ٭ … ٭ … ٭