خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 336 of 660

خطابات نور — Page 336

یعنی بڑے بڑے آدمی راستبازوں سے محبت نہیں کرتے۔بلکہ وہ ان سے قطع تعلق کرنے والے ہوتے ہیں۔اب میں جو دیکھتا ہوں تو حضرت صاحب کے ساتھ کسی بڑے آدمی نے تعلق ارادت قائم نہیں کیا۔حالانکہ کیشب بابو کے مریدین میں مہاراجہ کوچ بہار تھا اور ایسا ہی دیانند اور سرسید کے ساتھ تعلق رکھنے والے بھی بڑے بڑے آدمی تھے تو قرآن مجید کی یہ آیت مجھے راستباز کی صداقت کا ایک معیار نظر آتی تھی۔اس لئے میں نے مرزا کو راستباز یقین کرکے پھر اپنی آنکھ سے دیکھ کر ساری محبتوں کو اس پر قربان کردیا اور اس کی خاطر وطن، عزیز اور دنیا کی خواہشیں قربان کردینی مجھے بہت ہی آسان معلوم ہوئیں اور جہاں اس نے کہا میں بیٹھ گیا۔میرے ایک دوست ریاض احمد نام یہاں آئے تھے۔انہوں نے میرے اس معیار صداقت کو کہیں سنا ہوگا یا پڑھا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کا معیار صداقت سنا ہے۔مگر آپ یہ تو بتائیں کہ بڑے اور چھوٹے آدمیوں میں فرق کیا ہے؟ کیا نواب صاحب بڑے آدمی نہیں ہیں؟ میں نے کہا کہ وہ مالیر کوٹلہ کے نواب نہیں ہیں۔بلکہ وہاں کے خوانین میں سے ہیں۔اس پر اس نے کہا کہ میں تو بریلی سے یہ خیال لے کر آیا تھا۔اب میں جاتا ہوں۔خیر یہ سلسلہ بڑا لمبا ہے۔آنکھ، ناک، کان، ذوق، شہوت کے محبوب میں بھی محبوب ہوتے ہیں۔مگر علم اور دین کے سامنے ان کی کچھ بھی حقیقت نہیں اور اس پر ان کو قربان کردیا جاتا ہے۔اس قربانی کے عجیب عجیب تماشے میں نے دیکھے ہیں۔ابھی میاں شریف کی انگلی کا ایک پورا اڑ گیا۔ڈاکٹر نے کہا کہ جب تک اس کی ہڈی کا صاف حصہ نہ کاٹا جاوے۔ماس اوپر نہیں آئے گا۔اس پر مجھے بھی سپارش کرنی پڑی کہ ہاں اسے کاٹ دیا جاوے۔کیونکر اس ہڈی کی محبوبیت کو اس پر قربان کردیا گیا۔پھر محرم میں اس کے عجیب تماشے ہیں۔یزید قریشی ہے، اولاد صحابہ میں سے ہے، دنیاوی جاہ و جلال بھی رکھتا ہے، اسلامی سلطنت کا بادشاہ بھی ہے امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ جب بدمعاملگی کی تو اب امام حسینؓ کے بالمقابل کوئی اس کا نام تولے یا پگڑی ہی باندھ کر اس مجلس عزا میں بیٹھ جاوے۔یہ بھی علم دین کی حُبّ کا ایک تماشا ہے۔مال بھی محبوب ہے تم نے قربان کیا۔گھر کی انگیٹھیاں اور آرام سب کچھ آپ کو حاصل تھا۔مگر اسے بھی قربان کیا۔کیوں ان سے بڑھ کر جو ایک حُبّ نے اپنا اثر کیا۔وہ حُبّ ایسی ہے جس کا