خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 331 of 660

خطابات نور — Page 331

ہے۔یہ عجائبات دماغ کے متعلق تھے۔اس لئے ان کے ذکر کے بعد فرمایا کہ قلب کے کمالات بھی عطا فرمائے ہیں اور وہ یہ ہیں۔قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِ (المستدرک۔کتاب النکاح)پہلے فرمایا تھا حبب الی یعنی مجھ میں محبت ڈال دی گئی ہے اور یہاں فرمایا کہ قُرَّۃُ عَیْنِی۔میری آنکھوں کا سرور اور ٹھنڈک تو نماز میں ہے۔ساری خوشیوں کا منتہا اور ساری لذتوں کی جڑ آپ کے لئے نماز ہے۔اگرچہ یہ بھی کہا کہ مراد عائشہ و بتول ہے۔ایک علمی نکتہ: عربی زبان میں جب مونث مذکر کو جمع کرتے ہیں تو غلبہ مذکر کو دیتے ہیں۔جیسے کہتے ہیں۔امراء ۃ ورجال جاء وا یعنی عورتیں اور مرد آئے۔اس لئے یہاں ثلث کہا۔ثلثہ نہیں کہا؟ پھر یہ سوال ہے کہ نساء کو مقدم کیوں کیا؟ صوفیا نہ ذوق کی بات ہے۔اس کا سِرّ صوفیا نے یہ لکھا ہے کہ سارا کارخانہ جناب الٰہی کا موقوف ہے اثر ڈالنے پر اور اثر لینے پر۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کچھ ملا وہ اثر کرنے پر موقوف تھا۔بیوی بھی ایک اثر کو قبول کرتی ہے اور اس اثر کا نتیجہ ہے جوبچہ پیدا ہوتا ہے۔آسمان بھی نطفہ کی طرح زمین پر پانی ڈالتا ہے اور پھر اس کی تاثیرات کے نتائج مختلف ہیں۔اسی طرح پر تاثیرات کا ایک وسیع سلسلہ ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جامع کمالات ظاہر کیا ہے اور بھی کچھ چیزیں آپ کو پسند تھیں۔ان میں سے ایک دودھ بھی ہے۔جب آپ دودھ لے کر پیتے تو فرماتے الٰہی اس سے بڑھ کر دے اور کوئی چیز لے کر کھاتے تو فرماتے۔اس میں برکت دے۔دودھ کے بھی بڑے عجائبات ہیں۔ہمارے ایک دوست ہیں۔ان کو ایک مرتبہ خواب آیا کہ میرے پاس دودھ کا نصف پیالہ ہے۔مجھ سے انہوں نے لے کر پیا۔میں نے اس کی تعبیر کی کہ علم ہے۔غالباً آپ ہم سے پڑھیں۔ان دنوں مولوی عبدالکریم مرحوم مجھ سے بخاری پڑھتے تھے۔نصف ہوچکی تھی کہ وہ آئے بعض باتیں جو پسند آئیں تو بے اختیار کہہ اٹھے کہ اب میں بھی پڑھوں گا۔چنانچہ باقی نصف بخاری انہوں نے مجھ سے پڑھی اور اس طرح پر یہ رؤیا پورا ہوگیا۔قصہ معراج میں بھی آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شراب اور دودھ پیش کیا گیا۔آپ نے دودھ ہی پسند کیا اور پیا۔اس پر جبرائیل نے کہا کہ اگر آپ شراب پیتے تو امت غاوی ہوجاتی۔