خطابات نور — Page 327
ذریعہ متاثر ہوئی۔پھر کچھ حُبّ اپنا اثر کان کے ذریعہ کرتی ہے۔اس کے کرشمے یوں تو میں نے بہت دیکھے ہیں۔مگر ایک کا ذکر کرتا ہوں۔میں پنڈ دادنخان میں مدرس تھا۔ایک ہندو مدرس میرے ماتحت تھا۔اس کو راگ کے ساتھ خطرناک حُبّ تھی۔میں نے اس کو دیکھا کہ جہاں راگ کی آواز اس کے کان میں آئی۔وہ سب کام چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوجاتا تھا۔یہاں تک کہ بعض خطرناک موقعوں پر جب کہ افسر سامنے موجود ہو۔وہ آواز سنتے ہی سو کام چھوڑ کر بھی بھاگ جاتا اور کچھ پرواہ نہ کرتا۔پھر میں نے دیکھا ہے کہ کھانے پینے یعنی ذائقہ کے متعلق ایک حبّ ہے ایسے لوگ میں نے دیکھے ہیں جو ہزاروں روپیہ کھانے پینے میں خرچ کردیتے ہیں۔پھر کپڑے پہننے کی حبّ ہے۔پھر ایک اور حبّ ہے جس کا نام شہوت ہے۔اس حبّ میں تو غل کا نتیجہ ہر شہر میں دیکھا گیا ہے کہ بہت سے خاندانوں کا قطع نسل ہوگیا ہے۔صرف ایک لذت کی حبّ نے ہر ملک اور ہر شہر میں لا ولدقومیں بنادیں۔میں چونکہ طبیب ہوں اور اس لذت کے انتہا کا علم رکھتا ہوں زیادہ سے زیادہ اوسط پچیس منٹ ہے۔صرف اس پچیس منٹ کی خاطر میں نے دیکھا ہے کہ قطع نسل ہوئی ہے اور کئی خاندانوں کا نام و نشان مٹ گیا۔بہت سے اموال اور جائیدادیں تباہ ہوگئی ہیں جن پر لاکھوں آدمیوں کا گزارہ ہوسکتا تھا۔یہحُبّ عجیب عجیب راہوں سے آتی ہے۔ہمارے شہر میں ایک لڑکے کو خود بدکاری کرانے کی حُبّ تھی اور وہ اس حد تک اس لذت کا غلام ہو چکا تھا کہ خواہ کوئی اس کی بیوی بھی لے جاوے۔مگر اس کی اس حرص کو پورا کرے۔کان، آنکھ، زبان اور شہوت کا ذکر تو ہولیا۔مگر ان کے علاوہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیںجو ناک کے ذریعہ برباد ہوتے ہیں۔ناک کے ساتھ دو امور وابستہ ہیں۔ایک تو فطرتی ہے یعنی خوشبو، پچاس روپیہ تولہ والا عطر گلاب استعمال کرنے والے بھی میں نے دیکھے ہیں۔پھر یہی نہیں کہ صرف ان کو لگایا جاتا ہو بلکہ لگانے والے پہلے تو خود لگالیتے اور پھر تمام متعلقین کو لگا دیتے۔میں نے منع بھی کیا۔مگر اس نے کہا کہ وہ چکنائی کی برداشت نہیں کرسکتے۔اس لئے پہلے اوروں کو لگا دیا جاتا ہے تاکہ چکنائی کی تیز ُبو دور ہوجاوے۔