خطابات نور — Page 326
کشش ہے جو دل سے اٹھتی ہے اور پھر اس کے ذریعہ شوق، توجہ، مال و زر اور دوسرے اسبابِ لذت کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہے محبوب جیسا کہ میں نے بتایا ہے ملذّذ چیز کا نام ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے لذت پیدا ہوگی اور محب وہ ہوتا ہے جس کے اندر یہ بات پیدا ہو اور یہ کشش کی لہر اٹھے۔اب ہم لا الٰہ الا اللّٰہ بھی کسی محبت کے جوش اور جذبہ سے کہتے ہیں۔اگر یہ کوشش روح میں نہ ہوتی تو ہم کو لا الٰہ الا اللّٰہ کی نہ تو توفیق ملتی اور نہ وہ ہمارے لئے باعث لذت ہوتا۔حُبّ ہی ہوتی ہے جو انبیاء علیہم السلام کو انتھک کوششوں کے لئے تیار کرتی ہے اور پھر اُسی حُبّ کا جوش ہوتا ہے جو ہم ان کی اطاعت کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔حُبّ ہی ہے جو انسان کو مومن پھر صدیق بناتی ہے اور ایسے صدیقوں کو انبیاء سے جاملاتی ہے۔حُبّ ہی ہے جو شہداء کو سربکف کرکے خدا تعالیٰ کی راہ میں لئے پھرتی ہے۔ایک صحابی کا واقعہ لکھا ہے کہ اس نے ایک جنگ میں پوچھا کہ جنت کتنی دور ہے۔وہ ایک کھجور کھا رہا تھا۔جب اسے کہا گیا کہ ایک قدم تو وہ فوراً کھجور ہاتھ سے پھینک کر آگے بڑھا کہ اس کے کھانے میں دیر لگتی ہے۔یہ جوش اور یہ کشش اسی حبّ کا ایک کرشمہ تھا۔اب جبکہ یہ معلوم ہوگیا کہحُبّ کیا چیز ہے تو سوال ہوتا ہے کہ حُبّ پیدا کس طرح ہوتی ہے؟ حُبّ پیدا کس طرح ہوتی ہے؟ حُبّ کے پیدا ہونے کی عجیب در عجیب راہیں ہیں مگر پانچ ایسی راہیں ہیں جو دوسرے علوم کے لئے بھی ہیں۔اوّل، ایک حسین کو دیکھ کر دل میں ایک کشش اور توجہ پیدا ہوتی ہے۔پھر یہ محبت بڑھتی ہے اور اس میں کچھ ایسا کیمیاوی اثر ہوتا ہے کہ پھر اس کے مقابلہ میں مال و دولت، عزت و آبرو، جان و جسم کی کچھ بھی پرواہ نہیں کی جاتی ہے اور اس سے ایک عاشق دوسرا معشوق کہلاتا ہے اور عاشق اپنے معشوق پر سب کچھ قربان کردیتا ہے۔یہ واقعہ ہے اور قرآن کریم نے بھی اس قسم کی حُبّ کا ذکر کیا ہے۔چنانچہ حضرت یوسف اور ایک بیوی کی حُبّ کا ذکر یا یوسف اور اس کی محبت کا واقعہ۔ہر ملک اور ہر قوم میں اس کے نظائر موجود ہیں۔یہ حُبّ آنکھ کے ذریعہ پیدا ہوئی۔ہمارے ملک میں سوہنی مہینوال، ہیر رانجھا، مرزا صاحباں کے قصے عام طور پر مشہور ہیں۔یہ تمام کرشمیحُبّ کے ہیں اور وہ آنکھ کے