خطابات نور — Page 325
اور ہر وقت اس کی عظمت و جلال کا اظہار کرتے رہیں۔چنانچہ سب سے پہلی وحی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی وہ یہی تھی۔ (العلق :۲) یعنی تو اپنے ربّ کے نام سے پڑھ جس نے انسان کو ادنیٰ چیز سے پیدا کیا اور جو اکرم ہے۔اب دیکھو کہ انسان کو ایک ادنیٰ چیز سے پیدا کرکے کس اعلیٰ مقام پر پہنچایا۔پس تو گویا اسی کا نام لئے جا۔وہ قلم کے ذریعہ بھی انسان کو علم سکھاتا ہے۔پھر دوسری وحی جو ہوئی وہ یہ تھی (المدثر :۲ تا۴) اس میں بھی یہی ہدایت ہوئی کہ تو اپنے ربّ کی بڑائی بیان کر۔ایسی عجیب اور کامل طور پر اس حکم کی تعمیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کی کہ اب تک روئے زمین پر پانچوں وقت اللہ اکبر پکارا جاتا ہے۔اس کے بعد یہ بتایا کہ ایمان کیا چیز ہے؟ اس کے بعد جنت‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر۔پھر حدود اللہ کا بیان کیا۔اب عامی رنگ کا مسلمان کہہ سکتا ہے کہ اس کے سوا بڑھ کر کیا چیز ہے۔مگر میں وہ اب پیش کرتا ہوں۔اس لئے میں بہت ہی پسند کروں گا کہ چند منٹ تم اس کے سننے میں لگائو۔کیا اس لئے کہ مضمون کیسا عجیب ہے؟ اور کیا اس لئے کہ کہنے والا کون ہے؟ کیا اس لئے کہ سننے والے کون ہیں۔مضمون کیا ہے؟ اَلْحُبّ: اَلْحُبّ کیا چیز ہے؟ اس کی بڑی ضرورت ہے۔اگرحُبّ ہوگی تو لا الٰہ الّااللّٰہ کی ضرورت ہوگی۔اگر حُبّ ہوگی تو انبیاء، اولیاء اور پاک کتاب کی بھی اتباع کریں گے۔اگر یہحُبّ نہ ہوگی تو پھر یہ اور رنگ کی ہوگی اور کفار کا اتباع کریں گے۔میں یقینا کہتا ہوں کہحُبّبڑی نعمت ہے۔حُبّ کی تعریف اور اس کے کرشمے: یہ ایک قوت ہے جو دل میں توجہ کی صورت میں پیدا ہوتی ہے اور جس کے دل میں پیدا ہوتی ہے وہ اس توجہ کے ذریعہ لذت حاصل کرنا چاہتا ہے۔محب وہ ہے جو توجہ کرتا ہے اور محبوب وہ ہوتا ہے جس کی طرف توجہ کرتے ہیں۔اب حب، محب اور محبوب کے معنے سمجھ لو۔جب تک یہ