خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 324 of 660

خطابات نور — Page 324

فلسفۂ ُحبّ {تقریر فرمودہ۲۸؍دسمبر ۱۹۰۸ء بعد نماز ظہر و عصر} اشھد ان لا الٰہ الا اللّٰہ وحدہٗ لا شریک لہٗ واشھد انّ محمدًا عبدہٗ ورسولہٗ  (الجمعۃ :۱۱) اللہ جل شانہ‘ کے عجائبات میں قرآن مجید کو دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے۔میں نے پرسوں وعدہ کیا تھا کہ جو کچھ میں نے آج کہا ہے اس سے بڑھ کر کوئی بات کہنے کا ارادہ رکھتا ہوں اگر توفیق اور وقت اور فرصت ملے۔چونکہ اللہ تعالیٰ نے سبھی کچھ دے دیا ہے۔اس لئے میں اس فضل کے شکر میں آج اپنا وعدہ کو پورا کرتا ہوں۔اب تمہیں تعجب ہوگا کہ کیا کہا گیا تھا۔بہتوں کو تحریر پہنچ جاوے گی اور انہیں یاد آجاوے گا جو کچھ کہا گیا تھا۔بہتوں کو اب بھی یاد ہوگا۔تاہم پھر میں آج یاد دلاتا ہوں۔میں نے اپنی پچھلی تقریر کو لا الٰہ الا اللّٰہ سے شروع کیا تھا۔(حضرت خلیفۃ ا لمسیح نے ابھی تقریر شروع ہی کی تھی کہ سامنے سے ایک سکھ پیش ہوا۔اسے دیکھ کر حضرت نے فرمایا کہ اس کا ایک بھائی تھا۔جس نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔وہ فوت ہوگیا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس اپنے بھائی کو مرتے وقت کہہ گیا کہ نام دھاری سکھ ہوکر مسلمانوں سے نکل جائیو۔اب یہ اسی دھن میں پھرتا ہے۔یہ عجائبات قدرت ہیں۔) خلاصہ تقریر اوّل: میں نے بتایا تھا کہ اوّل اوّل اللہ تعالیٰ کی توحید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانے کی ضرورت ہے۔پھر بتایا کہ اگر ماں باپ اچھے ہوں اور صلحاء کا کنبہ ہو تو تربیت میں فائدہ پہنچتا ہے اور آئندہ زندگی پر اس کا بہت اچھا اثر پڑتا ہے۔اسلام کی تعلیم کا خلاصہ ہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنا ربّ سمجھ کر اس پر استقامت اختیار کی جاوے