خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 312 of 660

خطابات نور — Page 312

حامد ہو۔خدا کے فضل پر راضی ہوجاوے۔اس کے متعلق ایک مرتبہ میں نے سنایا تھا کہ طبیعت میں الحمدپڑھتے ہوئے روک پیدا ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ ہم بہتر بدلہ دیتے ہیں۔تب میں نے زور سے الحمد پڑھا۔پھر مومنین کی صفات میں فرمایا۔السائحون۔اس کے دو معنے ہیں۔ایک یہ کہ گھروں میں بیٹھ کر عبادت کرنا۔دوم ملکوں میں پھر کر تبلیغ کرنا۔اور بَدوں کے برے انجام اور نیکوں کی کامیابی سے عبرت حاصل کرنا۔بھلائیوں کی فہرست: پھر تم رکوع سجود کرنے والے بن جائو اور نہ صرف خود نیکیاں کرو بلکہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے ہو۔امر بالمعروف میں کیا کچھ واقع ہے۔لمبا مضمون ہے مگر میں بھلائیوں کی ایک مختصر سی فہرست بتاتا ہوں۔مجھے حیاتی کی کیا خبر ہے یہ مجمع میری زندگی میں ہو یا نہ ہو۔مجھے کچھ کہنے کا موقع ملے یا نہ ملے اس لئے سناتا ہوں۔اول۔اللہ پر ایمان ہو، دوم بدیوں اور رسوائیوں سے بچنا۔میں ایک پیشہ طبابت کا رکھتا ہوں جس کے ذریعہ مجھے معلوم ہوا کہ صرف ایک بدی نے دنیا کو کس قدر نقصان پہنچایا ہے۔کالجوں اور سکولوں سے پچانوے فیصد ایسے خطوط آتے ہیں جو شہوت کے برے خمیازہ کو ظاہر کرتے ہیں۔پس عفت اختیار کرو۔عفت سے صحتِ جسم ہوتی ہے اور انسان فضولیوں سے بچ جاتا ہے اور پھر سخاوت اور حلم پیدا ہوتا ہے۔(۳) پھر ایک معروف وقار ہے۔انسان اپنے آپ کو بیہودہ باتوں سے بچائے اور فحش نہ بولے۔خصوصاً مجلسوں میں بیہودہ حرکات نہ کرے۔لوگوں کی عیب چینی میں نہ لگا رہے۔جلدی جواب نہ دے۔ٹھٹھا نہ کرے۔رزیلوں سے صحبت نہ کرے۔مادر پدر آزاد نہ ہوجاوے۔بہت سے نوجوانوں چھوٹی عمر کے لڑکوں اور عورتوں نمبر ۹ اور ۱۰ کے بدمعاشوں کی صحبت سے بچے۔(۴) پھر ایک حیاء ہوتا ہے۔حیا کلام میں بھی ہوتا ہے۔آنکھ میں بھی۔جاہل کندۂ نا تراش کا نام حیاء نہیں (۵) تواضع ہر ایک کی۔اہل علم و فضل کی خصوصاً (۶) وفا تعظیم لامراللہ۔شفقت علی خلق اللہ۔(۷) حرص چھوڑدے اور سستی نہ کرے (۸) قسم قسم کی مصیبتوں پر صبر اور بدیوں سے بچتا رہے۔یہ اصول ہیں معروف کے ایسا ہی شہوت پر، غضب پر، بزدلی پر غلبہ اختیار کرے۔