خطابات نور — Page 308
کے لئے (۶۵) انصار سے محبت کرنا (۶۶)کشادہ پیشانی سے پیش آنا۔احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قوم آئی اور اس نے عرض کیا کہ ہمیں ایمان کا مسئلہ بتادو۔آپ نے فرمایا کہ ایمان ۲۰ چیز کا نام ہے۔اللہjپر، ملائکہk پر، کتابوںl پر، رسلmپر، جزا وnسزا پر ایمان لائو۔ان کو عام مسلمان سمجھتے ہیں مگر ملائکہ پر ایمان لانے کی کیا حقیقت ہے اور میں نے اس سے کیا فائدہ اٹھایا۔یہ تمہیں بتاتا ہوں:۔انسان کے اندر ہر وقت دو محرک کام کرتے ہیں۔ایک کا نام مَلِکہے اور دوسرے کا نام شیطان ہے۔مَلِکنیکی کی تحریک کرتا ہے اور شیطان بدی کی۔جب مَلِکنیکی کی تحریک کرتا ہے تو جو شخص اس تحریک پر عمل کرتا ہے وہ گویا ملائکہ پر ایمان لاتا ہے۔اگر اس تحریک پر توقف کرتا ہے تو سنت اللہ یہ ہے (الانفال :۲۵) لیکن جب وہ اس تحریک پر عمل کرتا ہے تو اس فرشتہ کو اس سے محبت ہوجاتی ہے اور وہ اس سے تعلق پیدا کرتا ہے۔اس کے بعد دوسرے ملائکہ جو اس سے، مَلِکسے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی اس انسان سے تعلق پیدا کرتے ہیں۔یہاں تک کہ پھر قسم قسم کے ملائکہ اس سے مصافحہ کرلیتے ہیں اور ہر حال میں اس کے موید رہتے ہیں۔پس نیکی کی تحریک پر عمل درآمد کرنا ایمان بالملائکہ ہے۔پھر ایمان بالکتب اور ایمان بالرسل کی حقیقت تو بہت سنی ہے مگر میں تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں جو ایمان بالرسل کے متعلق ہے۔ایک مرتبہ ایک معزز دوست نے مجھے تحریک کی کہ فلاں شخص تم سے ملنا چاہتا ہے مگر وہ کسی وجہ سے قادیان میں نہیں آسکتا۔اس لئے تو اسے خود مل۔میں اگرچہ جانتا تھا کہ وہ مانے گا تو نہیں۔مگر میں نے یہ سمجھ لیا کہ حجت ہی پوری ہوجائے گی۔اس لئے میں گیا۔اس نے میری تو بہت خاطر مدارات کی مگر مجھے معلوم ہوگیا کہ یہ علما ء کی تحقیر کرتا ہے۔اس نے کہا کہ ملانوں کی باتوں کو تو آپ جانے دیں۔یہ بتائیے کہ رسولوں کے ماننے کی کیا ضرورت ہے۔میں نے اس کو کہا کہ تم کس مذہب کے ہو اور تمہارے نزدیک ایمان کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں! میں اللہ اور آخرۃ پر ایمان لاتا ہوں اور اسی کو ضروری سمجھتا ہوں۔میں نے کہا کہ یہ مطلب تم نے کہاں سے سنا۔اس نے کہا قرآن مجید میں لکھا ہے۔(اٰل عمران :۱۱۵)۔میں نے کہا کہ اور دلیل