خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 303 of 660

خطابات نور — Page 303

ضروری ہے۔یاد رکھو کہ کتاب اللہ کے علاوہ رسول کریم کی فرمانبرداری کی بھی بہت ہی ضرورت ہے اور بدوں اس کے ایمان کی تکمیل ہوتی ہی نہیں۔اسی لئے فرمایا ہے (الاحزاب :۲۲)۔ایک قوم ہے جو کہتی ہے کہ رسول اللہ کی فرمانبرداری کی ضرورت نہیں۔وہ کہتے ہیں کہسے مراد قرآن ہے۔یہ دجال کی ایک قسم ہے۔یہ جو کہتے ہیں کہ اس سے شرک لازم آتا ہے۔میں انہیں سورۃ نوح کی ایک آیت سناتا ہوں۔ (نوح:۳،۴)۔پس اگر اطاعت الرسول سے شرک لازم آتا ہے تو پھر اس کی بنا نوح نے ڈالی۔یہ خیال بالکل غلط ہے۔اصل یہی ہے کہ رسول کی اطاعت عین اللہ کی اطاعت ہے۔چنانچہ فرمایا  (النساء :۸۱)۔اولواالامر سے مراد حاکم ہے۔حکام کی فرمانبرداری کی تعلیم اسلام نے دی ہے اور اس کو داخل شعب ایمان کیا ہے۔ہم طوائف الملوکی میں بھی رہ چکے ہیں۔جب ہم مکّہ میں تھے۔پھر حبشہ کی طرف جب ہجرت ہوئی تو عیسائی سلطنت کے نیچے رہے۔جمہوری سلطنت میں بھی رہے کیونکہ مدینہ میں جمہوری حکومت ہی تھی۔پس ہمیں کسی حکومت کے ماتحت رہنے میں کوئی بھی مشکل نہیں۔مسلمانوں کو حکم ہے کہ وہ سچے دل سے حاکم وقت کی اطاعت کریں۔میرے دل میں اس کے لئے درد ہے۔حکام کے مطیع اور فرمانبردار رہو۔بلکہ میرا تو یہ جوش ہے کہ سپاہی ہو نمبردار ہو اس کی بھی اطاعت کرو۔میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم گورنمنٹ کے سچے فرمانبردار بنو اور کسی ایسے منصوبے میں شریک نہ ہو جو اولواالامر کے خلاف ہو جیسا کہ اب تک تم نے اپنے طرز عمل سے دکھایا ہے آئندہ اور بھی مضبوطی سے اس پر عمل کرو۔اسلام کی یہی ہدایت ہے۔قرآن کریم نے یہی تعلیم دی۔صحابہ کا نمونہ موجود ہے۔ہمارا امام اس کی تاکید کرتا آیا اور اس نے متعدد کتابوں میں اس امر پر بحث کی اور تم نے اس کے منہ سے سنا اور میں بھی تمہیں وہی کہتا ہوں جو تم پہلے سن چکے ہو۔غرض اولواالامر کی اطاعت کرو۔پھر (۲۶) یہود اور نصاریٰ کو اپنے دل کا متصرف دوست نہ بنانا۔