خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 293 of 660

خطابات نور — Page 293

کثرت سے جمع ہونا چاہئے تاکہ لوگ ہنسیں نہیں میرے دل میں یہ خیال نہیں کیونکہ یہ ریا ہے سمعۃ ہے معلوم نہیں اگلے سال ہم ہوں یا نہ ہوں اس لئے میں کھول کر کہتا ہوں کہ میری غرض یہاں تک نہیں۔لعنت ہے اگر میرے دل میں مخالفوں سے ذرا بھی خیال ہو۔وہ کہتے ہیں کیا ہیں ہاں یہ سچ ہے کہ اجتماع ضروری ہے اور یہ ایسا ضروری ہے کہ اس کے بدوں کام نہیں چلتا۔تم بھی ایک اجتماع کرتے ہو اور اس کے نتائج سے واقف ہو مگر یہ اجتماع کیوں ہوا۔اس کے کیا اغراض ہیں؟ میرے اور دوست بھی یہاں ہیں۔میں نہیں جانتا ان کے اغراض کیا ہیں اور وہ اس اجتماع کی کیا غرض قرار دیتے ہیں ہمارے اخبار کے ایڈیٹر ہیں میں نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے اس کی کیا وجہ سمجھی ہے؟ غرض ہر شخص اپنی نسبت خوب سمجھ سکتا ہے اور دوسروں کی بابت وہ کچھ نہیں کہہ سکتا کہ انہوں نے اس کی کیا وجہ سمجھی ہے۔میں اپنے اغراض جانتا ہوں کہ یہاں کیوں آیا؟ اس لئے میں ان کو ہی بیان کرتا ہوں؟ اول میں قادیان کیوں آیا: مختصر الفاظ میں یہ سمجھ لو کہ مجھے لا الٰہ الا اللّٰہ کی تکمیل کی خواہش لائی تھی۔میں یہاں قرآن سمجھنے کے لئے آیا تھا اور یہیمیری غذا ہے۔یہ غذا اگر آٹھ پہر میں استعمال نہ کروں تو میں مرجائوں۔پس یہی میری خواہش اور غرض تھی اور اس کے سوا مجھے کوئی مطلب نہ تھا اور تم غور کر سکتے ہو کہ کوئی اور غرض ہو بھی نہیں سکتی۔جو کسب میں جانتا ہوں وہ شہروں میں رہ کر زیادہ میرے لئے نفع مند ہوسکتا ہے اگر میری غرض اس سے بھی روپیہ کمانا ہوتا میرا لڑکا اتنا بڑا نہیں جو اپنے لئے خرچ کرسکے۔میں اس کی تعلیم کے لئے خود روپیہ دیتا ہوں۔وہ جو کپڑا پہننے کی خواہش کرے میرے پاس خدا کے فضل سے وقعت اور توفیق ہے کہ میں اس کے لئے مہیا کروں۔پھر جب یہ حالت ہے تو میں اپنے ربّ پر بدظنی کرسکتا ہوں کہ جہاں اس نے اس قدر عرصہ تک مجھے اور میرے متعلقین کی ضرورتوں کے واسطے مجھے بہتر سے بہتر سامان دیتا ہے وہ آئندہ نہ دے گا؟ میرے جیسا انسان جس نے خدا کے فضلوں کو عجیب عجیب طور پر محسوس کیا ہو جس نے جنگلوں اور بیابانوں میں اس کی قدرت کے کرشموں کو اپنے لئے دیکھا ہو یہ وہم بھی نہیں کرسکتا اور پھر عمر کے اس حصہ میں جب کہ ستر برس سے متجاوز ہوگئی ہے اور وہ بہت ہے ا