خطابات نور — Page 283
ہیں بڑی حاجتوں کو پورا کرنے والی ماں ہے اور بچہ اس کی گود کو بڑی آرام کی چیز سمجھتا ہے مگر جب یہ بچپن کی حالت جوانی سے بدل جاتی ہے تو اس وقت وہ ماں کی بغل میں نہیں سو سکتا بلکہ اس کی سکینت اور آرام کے لئے کسی اور کی حاجت ہے۔غرض جب غور کرکے دیکھا تو انسان کو حوائج کا محتاج پایا۔پھر ضرورتوں تک ہی سلسلہ محدود نہیں رہتا بلکہ ایک اور مشکل آتی ہے اور وہ یہ کہ بعض اوقات بڑی خواہشوں اور آرزئوں کے بعد بیٹا پیدا ہوتا ہے مگر مرجاتا ہے اور پھر انسان نہایت حیران اور رنجیدہ خاطر ہوتا ہے۔میرے نو بچے مرگئے اور ایک بیوی بچوں کے ایسے صدمے سے قریباً نیم پاگل ہوگئی تھی اس کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں مریں۔ان مصائب اور مشکلات نے بتایاکہ اللہ تعالیٰ ہی محبت کے قابل ہے اور فی الحقیقت لا الٰہ الا اللّٰہ کا مصداق اللہ ہی اس قابل ہے کہ اسے اپنا یار و آشنا یقین کیا جاوے اس سے پھر اس کی رضا کی خواہش میں جوش پیدا ہو۔تربیت کا نواں مرحلہ: تم میں سب نہ سہی اکثر جانتے ہیں کہ میں کتابوں کا بہتشائق ہوں اور بہت پڑھتا رہتا ہوں۔ایک دفعہ میں نے ایک کتاب میں دیکھا کہ انسان فلاں مقام و موقع پر پہنچے تو وہاں کوئی ایک دعا مانگے تو وہ قبول ہوجاتی ہے۔میں نے سوچا کہ ہر آن نئی حاجتیں پیدا ہوتی ہیں۔ایک دعا مانگ کر کیا ہوگا؟ ممکن ہے تھوڑی دیر کے بعد وہ حاجت ہی نہ رہے کیونکہ ساری حاجتیں تو آنی ہوتی ہیں اور وقتی حالات کے ماتحت ہوتی ہیں سب سے بڑی نعمت وصال محبوب ہے لیکن اگر عقل جاتی رہے یا شکل بھونڈی ہوجاوے تو پھر وہ نعمت دکھ سے بدل جاوے گی۔پس میں نے اپنے آپ کو عجیب مشکلات میں پایا۔دل چاہتا تھا کہ اس دعا کو جو اس مقام پر قبول ہونے والی ہے ضائع نہ کروں اور دوسری طرف یہ سوچتا تھا کہ ہر وقت نئی حالت میں ہوں اور حاجتیں ترقی کرتی ہیں۔پھر دعا ہی کے ذریعہ اس مشکل کو حل کیا اور خدا تعالیٰ سے ہی چاہا کہ ایسی دعا تعلیم کر جو میری ساری حاجتوں پر حاوی ہو۔پس میرے دل میں یہ جامع دعا ڈالی گئی کہ: مضطر ہوکر جو کچھ حضور سے مانگا کروں وہ قبول کرلیا کرو۔قرآن مجید سے تعلق: اس کا نتیجہ یہ دیکھا کہ سب دعائیں اسی میں آگئیں اور جب میں نے مضطر ہوکر اپنے ربّ سے کچھ مانگا وہ مجھے ملا۔ادھر میں نے