خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 282 of 660

خطابات نور — Page 282

دئیے کہ چائے تو ہم چوہڑے کو بھی پلا دیتے ہیں یہ مجھ پربڑا احسان جتاتا ہے۔اس سے پیشتر کہ چائے تیار ہوتی وہ چل دئیے۔اس سے مجھے عظیم الشان فائدہ ہوا اور مجھ پر عجیب نکتہ کھلا کہ جب ہم انسان ہو کے دوسرے انسان کی رضامندی کی راہ معلوم نہیں کرسکتے کیونکہ اس دوست کے لئے کچھ خرچ بھی ہوا اور وہ ناراض بھی ہوئے تو پھر انسان کے پیدا کرنے والے کی رضامندی کی راہ اپنے خیال اور تجویز سے کیوںکر معلوم کرسکتے ہیں؟ وہ جو علٰی کل شیئٍ محیط ہے اس کی رضامندی کی راہیں بدوں اس کے علم دینے کے کیوں کر معلوم ہوں جبکہ ہم محاط ہیں۔میرا وہ دوست اب تک جیتا ہے مگر سیدھا نہیں ہوا۔تاہم میں اس کی عزت کرتا ہوں کہ اس نے مجھے عجیب سبق دیا اور جب کبھی وہ مجھے ملتا ہے تو میں اسے کہا کرتا ہوں کہ استاد تو راضی ہے۔اس لئے کہ مجھے اس کے ذریعہ سے ایک علم پیدا ہوا۔مجھے اس عجیب نکتہ نے نہایت مشکلات میں ڈال دیا کیوںکہ میں اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا چاہتا تھا اور میں نے دیکھا کہ میں ایک اپنے جیسے انسان کو بھی راضی نہ کرسکا۔تب میں نے دعا میں اور ترقی کی کہ اے مولیٰ میں تجھے راضی کرنا چاہتا ہوں اور مجھے اس کا علم نہیں کہ کن راہوں سے تجھے راضی کرسکتا ہوں۔اس لئے تو آپ مجھے وہ راہ بتا دے۔پس میں رات دن اسی فکر میں رہتا۔تربیت کا آٹھواں مرحلہ : مگر ساتھ ہی خیال آیا کہ وہ تو ربّ العالمین ہے مجھے اس کے راضی کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اسی سوال کے پیدا ہونے پر اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھایا کہ دم بدم حالت تبدیل ہورہی ہے اور آج جو تیری ضرورتیں ہیں کل وہ تجھ سے الگ ہوں گی۔تیرے یاروآشنا تجھ سے جدا ہوں گے اس لئے پھر طبیعت میں یہ جوش پیدا ہوا کہ اے میرے مولیٰ مجھے ایسے سامان دے کہ کبھی جدا نہ ہو۔یہ سمجھ رکھو کہ یہ بات بڑی مضبوطی سے میرے دل میں پیدا ہوئی کہ آج جس چیز کی مجھے حاجت ہے۔ایک برس کے بعد شاید نہ رہے۔بچوں کو دیکھتے ہیں کہ ابھی بڑے جوش سے مٹھائی مانگتے تھے اور ابھی کوئی کھیل مانگتے ہیں۔پھر اس پر بھی بس نہیں خواہشوں اور حاجتوں کا دائرہ دم بدم وسیع ہوتا جاتا ہے۔ابھی عید آئی ہے نئے کپڑے چاہئیں۔غرض انسان کی حاجتیں جدیدپیش آتی رہتی ہیں اور وہ تھوڑی دیر کے لئے کافی نہیں ہوسکتی