خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 281 of 660

خطابات نور — Page 281

اس بستی کی اور اس کے رہنے والوں کی اور ہم تیری پناہ چاہتے ہیں اس کی اور اس کے رہنے والوں کی بدی سے اور اس چیز کی بدی سے جو اس میں ہے۔اے اللہ عطاء کر ہمیں یہاں کی آرام والی زندگی اور بچالے ہمیں یہاں کی وباء سے۔اے اللہ محبوب بنادے ہمیں ان لوگوں میں اور ہمیں محبت دے اس بستی کے نیک لوگوں کی۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اے آسمانوں اور زمینوں کے ربّ تو شیاطین اور ہوائوں کا بھی ربّ ہے میں اس شہر میں جانا چاہتا ہوں۔اس کی چیزوں سے متمتع کر اور اس کے شر سے محفوظ رکھ یہاں کی حیات طیبہ سے متمتع کر اور وبائوں سے بچا۔میں اس شہر والوں کی نظر میں محبوب ہو جائوں مگر میں کسی کو اپنا محبوب نہ بنائوں مگر صرف اسی کو جس سے تو راضی ہو۔یہ ایک احسان ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا جس نے یہ دعا سکھائی۔میں اس دعا کو ان کی صداقت کا بہت بڑا ثبوت یقین کرتا ہوں یہ ایک وجدانی ثبوت ہے۔میں نے اس دعا سے عظیم الشان فائدہ اٹھایا۔یمن میں، حجاز میں، ہندوستان میں، میں دیکھتا ہوں کہ میرے بچپن کے دوست اب تک مجھے ویسے ہی پیارے ہیں اور لوگ علی العموم مجھ سے محبت کرتے ہیں۔مجھے ان دعائوں میں حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی یاد آئے۔جنہوں نے دعا کی تھی۔(القصص :۲۵) یعنی اے میرے ربّ جو کچھ تو مجھ پر نازل کرے میں اس کی احتیاج رکھتا ہوں۔جب میں یہاں تک پہنچا تو اور بھی ترقی کی یہ تو ایک لمبی کہانی ہے اس لئے میں اس کا بہت حصہ قطع کرتا ہوں۔تربیت کا ساتواں مرحلہ: اسی سلسلہ حالات میں میرے دل میں ایک منصوبہ پیدا ہوا اور وہ یہ کہ جب بعض دوستوں سے مجھے سخت محبت تھی میں انہیں راضی کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو بعض بجائے راضی ہونے کے الٹے ناراض ہوجاتے ہیں۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میرے ایسے ہی ایک دوست آئے جن سے مجھے بڑی محبت تھی۔وہ چائے پینے کے عادی تھے۔میں نے بڑی محبت سے ان کے لئے چائے تیار کرائی اور ان سے نہایت خوشی کے ساتھ ذکر کیا کہ میں نے آپ کے لئے چائے پکوائی ہے یہ سن کر وہ بہت ناراض ہوئے اور یہ کہہ کر چل