خطابات نور — Page 278
اورایک نہایت خوشخط پنج سورہ جس کے ابتداء میں (الواقعۃ:۲)کی سورۃ معہ ترجمہ تھی دیا اور اس طرح پر میں قرآن مجید کے ترجمہ کی طرف متوجہ کیا گیا یہ خدا تعالیٰ کا ایک خاص فضل ہوا۔والحمدللّٰہ علٰی ذٰلک۔میں نے یہ کہانی نہیں سنائی بلکہ میرا مقصود اس سے یہ ہے کہ میں تمہیں بتائوں کہ والدین کا کیا فرض ہے، مائیں کیسی ہونی چاہئیں، بھائی اور بھاوجیں کیسی ہوں؟ دوسرے رشتہ دار کیسے اور کن لوگوں کے ساتھ آمدورفت کے تعلقات ہوں اگر یہ سب نیک اور خدا ُجو ہوں تو جو بچہ ان کی تربیت کے نیچے رہے گا خدا تعالیٰ کے فضل اور توفیق سے ضائع نہیں ہوگا۔والد کی طرف سے جو الٰہی فضل مجھ پر ہوا اس کا ذکر پھر کسی وقت کروں گا۔تربیت کا چوتھا مرحلہ: پھر میرے دوست میرے استاد تھے جو اس لا الٰہ الا اللّٰہ کے نشوونما کاموجب ہوئے ان ذریعوں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ہمارے شہر میں دو واعظ آیا کرتے تھے ایک کوہاٹ کے علاقہ سے محمد جی نام کے تھے اور دوسرے پاس ہی کے علاقہ سے آیا کرتے تھے ان کا نام غلام محی الدین تھا ان کے وعظ سننے کا مجھے بہت شوق تھا۔ہمارے اس زمانہ کے دوستوں میں سے… ایک حکیم فضل الدین اس وقت دم نقد موجود ہیں مجھے اور ان کو وہ وقت خوب یاد ہے جب ہم ان کے وعظوں کو نہایت شوق اور غور سے سنا کرتے تھے اور ان سے تمتع حاصل کرتے اور اس طرح پر لا الٰہ الا اللّٰہ میرے دل پر خوب بیٹھ گیا اور پھر اس طرح پر ترقی کا سلسلہ شروع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے ایک کتاب کی محبت میرے دل میں ڈال دی اور وہ مشارق الانوار تھی، اس کتاب کا اردو میں ترجمہ ہوچکا تھا اور مجھ کو اردو زبان سے بہت رغبت تھی اور میں اس میں بہت دلچسپی لیتا تھا اس لئے اس کتاب کو میں نے بڑے شوق سے پڑھا اور نہ صرف پڑھا بلکہ اس زمانہ میں مجھے اس کتاب کے مضامین کی اشاعت کا ایسا جوش پیدا ہوا کہ میں نے منشی مہدی خان صاحب مرحوم (جو ہمارے دوست محمد نواب خان صاحب کے ماموں تھے) یہ ساری کتاب مختلف حیلوں سے سنادی۔شرک سے مجھے پہلے ہی بڑی نفرت تھی مگر اس کتاب نے بڑا نفع دیا۔