خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 277 of 660

خطابات نور — Page 277

ایک دیندار ماں کے ذریعہ جو پاک اثر ماں کا اولاد پر پڑتا ہے وہ کسی دوسری صورت سے ممکن نہیں۔میں نے اپنی ماں سے بہت فائدہ اٹھایا اور میں اس کے لئے بڑی بڑی دعائیں کرتا ہوں اور دل سے چاہتا ہوں کہ ہماری اولاد کی مائیں ایسی ہی ہوں۔میں اس امر کو بھی تحدیث بالنعمۃ کے طور پر ہی ذکر کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری ماں کو ایک جلال والی قوم میں سے بنایا تھا وہ اعوان قوم سے تھیں۔یہ بھی اس کے فضل کی بات ہے لیکن جو بات مجھے خوش رکھتی ہے وہ یہ کہ میں نے گویا اس کے پیٹ میں قرآن کا سبق سنا یہ پہلا بیج تھا۔لا الٰہ الا اللّٰہ کا جس نے باپ کی طرف سے آکر ماں کے پیٹ میں نشوونما پایا۔تربیت کا دوسرا مرحلہ: اس کے بعد جب میں پیدا ہوا تو ماں کے دودھ کے ساتھ قرآن مجید کی پاک تعلیمات کے اثر کو پیا اور اس کی پیاری گود میں قرآن مجید کو سنا۔دودھ پینے کا زمانہ ختم ہوا اور جہاں تک مجھے ہوش ہے اور دودھ چھڑانے کا مجھے ہوش ہے۔مجھے خوب یاد ہے اس کے بعد میری تربیت کا ایک اور سلسلہ شروع ہوا میری ایک بھاوج صاحبہ تھیں وہ بگہ والے مشہور خاندان میں سے تھیں میں ان کی تربیت کے نیچے آیا ان کی گود میں جو آواز مجھے خوش کرتی اور سنائی دیتی تھی وہ انت الھادی انت الحق لیس الھادی الا ھو کی آواز تھی۔گویا باہر آکر لا الٰہ الا اللّٰہ کا نشوونما اس طرح پر ہوا۔تربیت کا تیسرا مرحلہ: پھر جب میں پڑھنے لگا اور میرے بھائی سلطان احمد صاحب مرحوم نے میری تعلیم عربی کی طرف توجہ کی تو جناب الٰہی کے انعامات میں سے ایک عجیب واقعہ پیش آیا اور وہ اس طرح پر ہے کہ اس وقت یاغستان کے مجاہدین کے لئے بنگال سے بہت سا روپیہ جاتا تھا اور وہ لوگ مخفی حیلوں سے انہیں روپیہ پہنچاتے تھے۔کلکتہ کے ایک تاجر کتب جو روپیہ لے جایا کرتے تھے ہمارے ہاں اترے۔انہوں نے ترجمہ قرآن کریم کی طرف یا یوں کہنا چاہئے کہ اس گراں بہا جواہرات کی کان کی طرف مجھے متوجہ کیا جس کے باعث میں اس بڑھاپے میں بھی نہایت شادمانہ زندگی بسر کرتا ہوں۔مجھے انہوں نے کوئی چیز پڑھتے دیکھا تو میرے بھائی کو ہدایت کی کہ اس کو قرآن مجید پڑھائو