خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 276 of 660

خطابات نور — Page 276

کہ لا الٰہ الا اللّٰہ کے مفہوم سے لوگ ناواقف ہوگئے تھے۔اس کے معنے میں اللہ تعالیٰ توفیق دے گا تو درمیان میں بتائوں گا۔فی الحال میں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ یہ بیج کی طرح کس طرح میرے دل میں آیا اور پھر کامل استقلال اس سے کس طرح پیدا کیا۔یہ میں آپ ہی تمہیں سناتا ہوں ممکن ہے تم میں سے کسی کو فائدہ ہو اور کوئی اپنی اولاد کی تربیت کے لئے مفید سبق حاصل کرے۔امیرالمؤمنین کی تربیت: پہلے پہل میری تربیت کیونکر ہوئی اور لا الٰہ الا اللّٰہ کا اثر مجھ پر کیسے پڑا؟ تم یہ سن کر تعجب کرو گے کہ یہ اثر مجھ پر ماں ہی کے پیٹ میں پڑا۔یہ نکتہ اب علم طب نے مجھ پر کھولا ہے کیونکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ والدہ کے خیالات کا اثر پیٹ میں بچہ پر پڑتا ہے بلکہ ان خیالات کا ذخیرہ ایک سال پہلے سے جمع ہوتا ہے اور پھر ان کا اثر بچہ قبول کرتا ہے۔میری ماں پڑھی ہوئی تھی اور اچھی پڑھی ہوئی تھی۔قرآن کریم کو خوب سمجھتی اور سمجھاتی تھی۔صبح سے شام تک اسی کا شغل رکھتی۔پس ان کے اس پاک شغل نے حمل کے اندر ہی مجھے قرآن مجید کا اثر پہنچایا اور اس طرح پر لا الٰہ الا اللّٰہ کی تخم ریزی میرے اندر ہوئی۔اس کہانی کے سنانے سے میری غرض کیا ہے؟ یہ کہ تم میں سے جو والدین ہیں وہ اپنے خیالات میں پاکیزگی پیدا کریں تاکہ بچے پاکیزہ خیالات کا اثر لے کر پیدا ہوں اور جو ابھی شادی شدہ نہیں وہ اور ان کے متولی اور سرپرست ان کے لئے نیک عورتیں بیاہنے کی کوشش کریں۔نکاح کی عام اغراض: حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ نکاح کرتے وقت کبھی تو اعلیٰ درجہ کی خوبصورتی کا لحاظ کرتے ہیں اور کبھی مال اور جاہ و جلال تلاش کرتے ہیںمگرنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جوہدایت کی ہے وہ یہ ہے۔علیک بذات الدین (صحیح مسلم کتاب الرضاع باب استحباب نکاح ذاتِ الدین)کیا معنی تم دیندار عورت کی جستجو کرو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نظر کیسی وسیع اور صاف ہے۔طبی تحقیقات نے آج یہ نکتہ بتایا کہ ایک سال پہلے کے خیالات کا اثر بچہ پر پڑتا ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تیرہ سو سال پہلے نکاح کی غرض وغایت بتاتے ہوئے اس اصل کو ملحوظ فرمایا۔بہت سی خوبصورتی، مال والوں اور اعلیٰ جاہ و جلال والوں کی تلاش اگرچہ کسی حد تک مفید ہوتی ہے لیکن