خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 24 of 660

خطابات نور — Page 24

کر کہ کس طرح وہ ماں باپ سے الگ اور ملک سے بدر کیا گیا تھا اس کا کوئی حامی ومددگار نہ تھا۔اپنے دل کے ان جھوٹے خیالوں کو دور کر دو کہ ہم کیا کر سکتے ہیں کیونکہ کسی کا باپ نہیں کسی کی ماں نہیں کسی کا کوئی تربیت کرنے والا نہیں۔پیارو یہ خیال محض غلط ہیں کہ ماں باپ نہیں۔اخراجات کی مشکلات ہیں۔تربیت کرنے والا کوئی نہیں۔بھلا اس بچے کا کون متولی تھا۔اس کی تربیت کون کرتا تھا۔اس غریب الوطنی کی حالت میں اس کے ماں باپ کوئی ساتھ نہ تھے۔نہیں تو پھر کیا وجہ کہ اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔یہی کہ نیک تھااور خدا کو ناراض نہیں کرتا تھا۔تم بھی اگر وہی اقتدار اور تمکّن حاصل کرنا چاہتے ہو تو آئو تم کو چند ایک ضروری باتیں بتائیں۔پہلی بات جو تم کو کرنی چاہئے وہ یہی ہے کہ شریر اور شہوانی لڑکوں سے دور رہا کرو۔ان کی صحبت سے ہر وقت پرہیز کرو۔بچو! شریر لڑکے چھوٹے چھوٹے بچوں کو پھسلاتے اور برباد کرتے ہیں۔ان کی ہر طرح کی بدیوں سے پرہیز کرو۔ایسے لڑکوں کے دماغ اور آنکھیں بالکل کمزور ہو جاتی ہیں کوئی محنت کا کام نہیں کر سکتے۔ان کی ساری عمر سخت تکلیف سے گزرتی ہے اور ان کو اس بدی کی سزا اسی دنیا میں آخرت کے بعض نمونے کے لئے ملنی شروع ہو جاتی ہے۔تم ایسے مشرب کے لوگوں سے بچنا۔یہ تو عام لڑکوں میں ُبری عادت ہوتی ہے اور ان کے اس کام کا ُبرا اثر قریباً ان کی اپنی جان تک ہی محدود ہوتا ہے مگر بعض اور جوان ہی شرارت کے میدان میں بڑھ کر قدم رکھنے والے ہوتے ہیں وہ کئی طرح سے چھوٹے چھوٹے بچوں کو ضائع کرتے ہیں۔کبھی ان سے ُبری ُبری باتیں کرتے ہیں کبھی خود ان کے سامنے ننگے ہو جاتے کبھی ان کو ننگے کرتے ہیں۔کبھی اپنی پیشاب گاہ ان کے ہاتھ میں پکڑاتے اور طرح طرح کی ناقابلِ ذکر بدمعاشیاں کرتے ہیں۔غرض ایک تو شریر اور بدمعاش لڑکوں کی صحبت بد سے بچو کیونکہ ایسی صحبت زہر قاتل کی طرح اندر ہی اندر اپنا اثر کر جاتی ہے جس سے بچنا مشکل ومحال ہو جاتا ہے۔یاد رکھو بعض وقت ایسے شریر النفس استاد بھی مل جاتے ہیں ان کا قطعاً خوف مت کرو۔اللہ تعالیٰ کی رضامندی کو ان کی رضامندی سے مقدم سمجھو۔اس کے بعد بہت بانکپن سے بھی بچنا چاہئے کیونکہ بانکے ہو کر وہ پوشاک‘ وہ وضع قطع‘ ڈھال چال ان کو بڑا سست بنا دیتی ہے کام کرنا تو ان کی شان کو دھبہ لگاتا ہے جب کام نہ کیا پھر لباس پوشاک