خطابات نور — Page 262
(گو اس کا یہ خرچ میرے جیسے انسان کے لئے تامل کا مقام ہے کیونکہ میں بھی تجربہ کار ہوں) اور جس نے باربار کہا ہے کہ یاتینی صادق و کاذب۔اور جس نے دیکھ لیا کہ صدق کی عمارت قائم ہے۔اس لئے وہ راستباز ہلاک نہیں ہوا اور جس کے نزدیک کسی راستباز کا ماننا ضروری ہی نہیں۔کیونکہ نجات کی راہیں بے انت ہیں اور جس کے شہر میں ایک نے حضرت خاتم النبیین رسول ربّ العالمین صلی اللّٰہ علیہ واٰلہ الٰی یوم الدینکو مسیح الدجال کہہ کر ایک کتاب لکھی جس کا نام مسیح الدجال تھا اور اب خود اپنا نام الذکر الحکیم معروف کانا دجال کہہ کر اپنے آپ کو پہلے کا جانشین بنایا۔اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِ الْاَعْدَآئِ وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِ الْاَعْدَآئِ۔اَللّٰھُمَّ اکْفِنَا شَرَّھُمْ بِمَاشِئْت۔ہمیں اپنے اعداء پر تعجب بھی آتا ہے کیونکہ عبدالحکیم بھی اپنی نسبت اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اور اِنَّا اَرْسَلْنَاکَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا اور مسیح و محمد و ابراہیم، موسیٰ و عیسیٰ بننے کا مدعی ہے۔پھر پیسہ اخبار اور مولوی صاحبان کا اس کی نسبت کوئی جوش نہیں اس کا کیا بھید ہے؟ بہرحال حضرت مرزا کی وفات پر جن مشکلات کا ہمیں خیال ہوسکتا تھا کہ ہمارے سامنے ہوں گے ان کے علاوہ لاہور کے عوام کا وہ شوروغل تھا جس کا مجھے وہم و گمان بھی نہ تھا۔قریب تھا کہ وہ لوگ ہمیں گاڑی تک بھی نہ پہنچنے دیتے کہ معاً اللہ تعالیٰ نے ابر رحمت کی طرح پولیس ہمارے لئے بھیج دی اور گورنمنٹ کا دل سے شکریہ کرتے ہوئے ہم پلیٹ فارم پر آرام سے سوار ہوگئے۔اگر مرزا صاحب اپنے امن اور سامان اشاعت اور ہر طرح کے سکھوں کے باعث اس گورنمنٹ کے شکر گزار تھے اور قوم کو اطاعت کی تاکید کرتے گئے تو اس کی وفات نے ازسرِنو اس کی قوم کو امن پسند گورنمنٹ کا شکرگزار بنادیا۔میں خوشامد سے نہیں کہتا کسی غرض سے نہیں میرا مطاع اس دنیا سے کوچ کرگیا اور میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور میرا زمانہ بھی کچھ بہت بڑا نہیں۔میرے دل میں یہ سطور لکھنے کا جوش تھا جو قلم سے نکلا۔ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث (صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ باب تحریم الظن) ہماری قوم اس آرام کی قدردان ہو۔آمین یارب العالمین۔اب میں ان حملوں کا ذکر کرتا ہوں جو ہم پر ہوچکے ہیں اور تمام حملوں میں زبردست حملہ جس کو دشمن یقین کرتا ہے کہ اس سے ہم کو پاش پاش کردے گا اور اس حملہ سے ثابت کرتا ہے کہ اس نے