خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 259 of 660

خطابات نور — Page 259

تمام دنیا میں ایک انقلاب ڈال دیا اور اس طرح (الانعام:۴۳) کی تصدیق کردی۔غرض یہ لوگ قسم قسم کی بداعمالیوں اور روحانی بیماریوں میں مخلوق کو گرفتار دیکھ کر ان کے لئے کبھی تڑپتے اور گاہے خفا ہوکر بداعتقادوں شوخوں پر بد دعائیں کرتے ہیں کبھی مدلل کلام سے ایک حصہ ملک اور سعادتمند انسانوں کو آگاہ فرماتے اور کبھی اس جمالی رنگ سے جلالی رنگ میں جھڑکیاں دیتے ہیں یہاں تک کہ اس مزرعۃ الآخرت میں جنتی طوبیٰ کا بیج بو دیتے ہیں اور اس پاک درخت کو بو کر اپنی پاک توجہات، دعائوں، عقد ہمت اپنے اقوال و احوال او راعمال و افعال سے اس کی آبپاشی کرکے اس کی جڑھیں مضبوط پاکر ملاء اعلیٰ سے جاملتے ہیں۔  (الفتح:۳۰) اور سورہ (النصر:۲) پر تدبر کرو۔یہ آیۃ اور سورہ کریمہ دو بڑی گواہ میرے اس کلام پر ہیں۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم متمم مکارم اخلاق اور انسانی شخصی اصلاح، معاشرت و خانہ داری، اپنے و بیگانے سے تعلقات کیسے چاہیے عبادات و معاملات ‘سیاست و تمدن اوراطاعت اولی الامر وغیرہ کی اصطلاحات کے لئے دنیا میں رونق افروز ہوئے مگر اصل اصول آپ کی تعلیمات کا اشھد ان لا الٰہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ تھا۔جب یہ مضمون مکہ و مدینہ اور ان کے نواحی میں قائم ہوگیا تو داعی اجل کو لبیک کہہ دی۔ایک لاکھ چالیس ہزار کے مجمع حجۃ الوداع میں اَ لَا ھَلْ بَلَغْتُ (صحیح بخاری ،کتاب العلم ،باب لیبلغ العلم الشاھد الغائب) پکار کر اکاسی روز بعد اس دنیا سے کوچ کردیا مگر جو بیج بویا تھا اس کا وہ درخت بنا جس نے پہلے تمام عرب پر اپنا سایہ کردیا اور یہ واقعہ دنیوی تاریخ میں سپرنیچر کا رنگ رکھتا ہے کیونکہ تاریخ کے صفحہ پر ایسا عملی رنگ کسی مصلح کے زمانہ کا نظر نہیں آتا۔خیر بہرحال اب دشمن جلسے کریں اور خوشیاں منائیں۔پہلی زبردست قدرت الٰہیہ اور نصرت الٰہیہ کو تو دیکھ چکے ہیں اور دوسری قدرت کا تماشا دیکھیں۔اب یہ درخت محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے جیسے محفوظ رہا ہے ویسا ہی اب پھولے گا اور پھلے گا اگر ہم میں ان کو کارکن لوگ تھوڑے نظر آتے ہیں تو امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے مذاہب کے رو سے صحابہ کرامؓ میں فقہا کتنے تھے ان کی تعداد دکھائیں اور خالد بن ولید جیسے سپاہی کتنے تھے ان کی تعداد پیش کریں اور