خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 257 of 660

خطابات نور — Page 257

مگر آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشینوں نے ہی بتدریج تمام مراکز مذاہب یروشلم اور آتش کدہ آزر وغیرہ کو فتح کرلیا۔پھر اصلی آیت کریمہ کا آخری حصہ لیتے ہیں۔پس کیا آپ کی وفات پر (صلی اللہ علیہ وسلم) بلکہ فرض کرلیں کہ اگر آپ قتل بھی ہوجاتے تو کیا آپ کے تعلیم یافتہ لوگ شرک و کفر اور ان بداعمالیوں کو جن میں ملک گرفتار تھا پھر اختیار کرتے۔نہیں اور ہرگز نہیں۔ایسا ہی اس وقت دنیا نے دنیا کو دین پر مقدم کرلیا تھا اور حیات مسیح کے مسئلہ نے مسیحی مذہب کی کمر کو مضبوط کردیا تھا اور آپ کے نزول جسمانی کے توہمات نے مسیحیوں کے ساتھ مسلمانوں کو بولنے کے قابل نہ رکھا تھا۔رویا، کشوف، وحی کا مسئلہ ہنسی و تمسخر میں اڑایا جاتا تھا اور مسیح کا بت ایسا قائم کیا گیا کہ کروڑوں روپیہ سالانہ اس بت کی خاطر پانی کی طرح بہایا جاتا تھا اور شراب خواری، جوابازی اور قسم قسم کی سود خواری جس نے مسلمانوں کی زمینیں اور وجاہت کو کھالیا اور شریعت کے ناوافقوں نے مسئلہ ربا میں یہاں تک بے حیائی سے کام لیا کہ ربا کے معنے ہی گویا کسی کو نہیں آتے۔ربا جیسا خطرناک گناہ جس کی نسبت  (البقرۃ :۲۷۶) اور  (البقرۃ : ۲۸۰) کا فتویٰ موجود ہے ہر روز مسلمانوں پر ربا کے باعث ڈگریاں ہوں اور ان کے اموال و زمینیں تباہ ہوں اور ہمارے محقق الربا کہتے جاویں کہ رِبٰی کے معنے تو حضرت عمرؓ کو بھی معلوم نہ تھے۔ایک دکاندار‘ ایک ادنیٰ جج ‘بے پاری تو اس کے معنے جانتا ہو مگر عمر رضی اللہ عنہ اس کے معنے سے بے خبر ہوں۔دینی غفلت کا یہ حال ہوگیا تھا کہ ایک ریفارمر نوجوان نے مجھے فرمایا کہ کوشش کرو کہ لوگ صرف مردم شماری میں اپنے آپ کو مسلمان لکھوادیں اور بس۔کسی عمل واعتقاد کی ضرورت نہ رہے اور دعا کی تاثیرات‘ دعا کی حقیقت اور دعا جیسے عظیم الشان سبب حصول مرادات کو محض لغو قرار دیا جارہا تھا۔ایسے وقت ایک نور اترا اور اس نے علاوہ مکارم اخلاق اور معاشرت و تمدن و اطاعت اولوالامر اور تمام خوبی بھری تعلیموں کے ہم کو اعلیٰ اصل یہ سکھایا کہ ہم گندی زندگی سے توبہ کریں اور آئندہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں اور سینکڑوں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روحوں کو اس تعلیم کے ساتھ نجات دے دی اور اس تعلیم کی قریباً پینتیس برس آبپاشی کرکے آخر (البقرۃ :ا۱۸) کا سبق دے کر قریب تھا کہ رخصت ہوجاتا مگر صرف مولیٰ کا احسان ہوا کہ