خطابات نور — Page 251
اور بڑے بدلے دینے والا ہے۔کیا معنے؟ تم کو بڑھ چڑھ کر ضرور اس قدر کا بدلہ دے گا۔جب اس نے بدلہ دیا تو کیا وہ تم کو تباہ کردے گا؟ ایسا ہرگز نہیں ہوگا پس تم ہرگز تباہ نہ ہوگے۔حضرت امام خود اپنی الوصیّۃ کے صفحہ نمبر ۵ میں اپنی وفات کا ذکر فرماتے ہوئے اور مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو جناب الٰہی سے پامال کردکھانے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں اور قوم کو مخاطب فرما کر ارشاد کرتے ہیں۔’’غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہوجائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کابھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا اور وہ دوسری قدرت نہیں آسکتی جب تک میں نہ جائوں۔‘‘ (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۳۰۵ ) موت کا آنا سب کے لئے جو مخلوق ہوا ضروری ہے (العنکبوت : ۵۸) بلا استثنا یہ ایک عام قاعدہ اوّل تو منصوص پھر موجود و مشہود ہے۔اس سچے قاعدہ کے مطابق قرآن کریم ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ موت جب سامنے حاضر ہو تو وصیت کا کرنا تمہارے لئے ایک ضروری اور فرض کام ہے اس پر اس امام نے کیسا عمل کیا ہے؟ اس نص کو سن لو اور پھر اس عمل و درآمد کو دیکھ لو۔نص یہ ہے ۱؎ (البقرۃ:۱۸۱) اور اس پر جو عمل و درآمد اس کامل انسان نے فرمایا وہ رسالہ الوصیت میں ملاحظہ کرو۔صفحہ نمبر ۲ سطر ۴ سے فرماتے ہیں۔’’میرا زمانہ وفات نزدیک ہے (یہ حضر احدکم الموت کا بیان ہے) اور اس بارہ میں اس کی وحی اس قدر تواتر سے ہوئی کہ میری ہستی کو بنیاد سے ہلا دیا۔۔۔۔۔۔۔ــقَرُبَ اَجَلُکَ الْمُقَدَّرُ (الیٰ آخرۃ)۔قُلْ مِیْعَادُ رَبِّکَ (الٰی آخرۃ)جَائَ وَقْتُکَ۔(الیٰ آخرۃ)‘‘ (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ۳۰۱) اور صفحہ نمبر ۳ سطر ۱۱ میں ہے۔’’ بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔اس دن سب پر اداسی چھا جائے گی۔‘‘ (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ ۳۰۲) ۱ ؎ لکھا گیا ہے تم پر جب حاضر ہو تم میں سے کسی کی موت اگر چھوڑا کسی خیر کو ایک وصیت۔