خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 248 of 660

خطابات نور — Page 248

ساتھ ہوں میں خود ضعیف ہوں۔بیمار رہتا ہوںپھر طبیعت مناسب نہیں۔اتنا بڑا کام آسان نہیں۔حضرت صاحب کے ساتھ چار کام تھے۔۱۔ایک ان کی اپنی عبودیت۔دوم کنبہ پروری۔سوم مہمان نوازی۔چہارم اشاعت اسلام جو ان کا اصل مقصد تھا۔ان چار کاموں میں سے ایک سے ہم سبکدوش ہو سکتے ہیں وہ آپ کی عبودیت تھی جو ان کے ساتھ رہے گی۔آپ نے جیسے اس جہان میں خدمتیں کیں ویسے ہی بعد الموت کریں گے۔باقی تین کام ہیں ان میں سے اشاعت اسلام کا کام بہت اہم اور نہایت مشکل ہے۔اس وقت دہریت کے علاوہ اندرونی اختلاف بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کے اختلاف کے مٹانے کے لئے ہماری جماعت کو منتخب کر لیا ہے۔تم آسان سمجھتے ہو مگر بوجھ اٹھانے والے کے لئے سخت مشکل ہے۔پس میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جن عماید کا نام لیا ہے ان میں سے کوئی منتخب کر لو۔میں تمہارے ساتھ بیعت کرنے کو تیار ہوں اگر تم میری بیعت ہی کرنا چاہتے ہو تو سن لو کہ بیعت بک جانے کا نام ہے۔ایک دفعہ حضرت نے مجھے اشارۃًفرمایا کہ وطن کا خیال بھی نہ کرنا۔سو اس کے بعد میری ساری عزت اور سارا خیال انہی سے وابستہ ہو گیا اور میں نے کبھی وطن کا خیال۔۔۔۔تک نہیں کیا۔پس بیعت کرنا ایک مشکل امر ہے ایک شخص دوسرے کے لئے اپنی تمام حریت اور بلندپروازیوں کو چھوڑ دیتا ہے اسی لئے اللہ نے اپنے بندے کا نام عبد رکھا ہے اس عبودیت کا بوجھ اپنی ذات کے لئے مشکل سے اٹھایا جاتا ہے کوئی دوسرے کے لئے کیا اور کیونکر اٹھائے۔طبائع کے اختلاف پر نظر کر کے یک رنگ ہو نے کے لئے بڑی ہمت کی ضرورت ہے۔میں تو حضرت صاحب کے کاموں میں حیران ہوتا ہوں کہ اول بیمار پھر اس قدر بوجھ۔نثر ،نظم، تصنیف، دیگر ضروری کام ادھر میں حضرت صاحب کے قریب عمر۔وہاں تائیدات روزانہ موجود یہاں میری حالت ناگفتہ بہ۔اسی لئے فرمایا۔(اٰل عمران:۱۰۴)۔کہ یہ سب کچھ خدا کے فضل پر موقوف ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت:۔میں ایک بڑا امر پیش کرتا ہوں کہ جناب ابوبکرؓ کے